ژوب ، موسیٰ خیل ، کوہلو ، بارکھان ، نصیر آباد میں خطرناک مرض وبائی شکل اختیار کر گیا

(اردو ویوز)ژوب ، موسیٰ خیل ، کوہلو ، بارکھان ، نصیر آباد سمیت صوبے کے بعض دیگر اضلاع میںمیں خطرناک مرض ہیپاٹائٹس وبائی شکل اختیار کر گیا ہے اور تیزی سے پھیل رہا ہے صوبائی پروگرام برائے تدارک ہیپاٹائٹس کے ڈاکٹراسماعیل میروانی کے مطابق بلوچستان کے علاقے نصیرآباد،جعفرآباد، صحبت پور، سبی ،بارکھان ،کوہلو ،موسیٰ خیل اورژوب کو عالمی اداروں نے ہیپاٹائٹس کے حوالے سے خطرناک ترین علاقے قرار دیا ہے جہاں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی شرح 8فیصد ہے تین سال کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں 64ہزار مریضوں کو مفت علاج معالجے کی سہولیات اورادویات فراہم کی گئیں یپاٹائٹس بی کے مریض کے علاج پر25سے 30،سی کے مریض پر60سے 70اور ڈی کے مریض پر تقریبا © 1لاکھ روپے خرچ آتا ہے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔ ڈاکٹراسماعیل میروانی نے کہا کہ ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت صوبے بھر میں 8لاکھ افراد کی اسکریننگ کی گئی ہے جبکہ 7لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ہیپاٹائٹس سے بچاو کی ویکسی نیشن کی گئی اسوقت صوبے کے 26اضلاع میں واقع سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے بچوں کی ویکسی نیشن شروع کی گئی ہے جس کے دوران6روز میں 1لاکھ 50ہزار بچوں کی ویکسی نیشن کی جائے گی جبکہ باقی اضلاع کے اسکولوں کے بچوں کی فیز ٹو میں ویکسی نیشن کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس قابل علاج مرض ہے جس کی بروقت تشخیص اوراحتیاطی تدابیر اختیار کرکے مرض سے بچا جاسکتا ہے لوگوں کوچاہئے کہ وہ شیو گھرمیں بنائیں ،انتقال خون کے وقت اس بات کی تصدیق کرلیں کہ خون ہیپاٹائٹس اوردیگر مہلک بیماریوں سے پاک ہے ٹیکہ لگاتے وقت نئی سرنج ،ناک کان چھیدنے کیلئے صاف ستھرے اوزارکے استعمال کو یقینی بنائیں اور کالے یرقان کے ٹیسٹ ضرور کروائیں اوراگر مرض ہو تواسکا بروقت علاج کرائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں