ایماندار وزیراعلیٰ کی ناک کے نیچے ناانصافی کا بازار گرم اضلاع کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی میں غیرمعمولی تضاد کیوں؟

اردو ویوز۔ بلوچستان کے موجودہ وزیراعلیٰ میر جام کمال ایسی کئی خصوصیات کے حامل ہیں جو سابقہ وزرائے اعلیٰ میں ناپید تھیں۔مثال کے طور پر انہوں نے بلوچستان میں ماضی قریب سے چلی آرہی ایک منفی روش کے خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے وعدہ کیا تھاکہ حکومت اوراپوزیشن تمام حلقوں اور تمام اضلاع کو ترقیاتی مد میں یکساں فنڈز فراہم کئے جائیں گے تاہم پی ایس ڈی پی سے متعلق جو اعدادوشمار سامنے آئے ہیں وہ کافی حیران کن ہیں جن کے مطابق رواں مالی سال کے دوران اضلاع کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی میں غیر معمولی تضاد دیکھنے میں آیا ہے اس بابت سوشل میڈیا پر جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے مطابق رواں سال سب سے زیادہ رقم صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی کے ضلع کیچ کو دی گئی ہے جو 5ہزار3سو14ملین ہے۔ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ فنڈز وزیراعلیٰ بلوچستان کے حلقہ انتخاب ضلع لسبیلہ کو دیئے گئے ہیں جو 4ہزار1سو17ملین روپے بنتے ہیں تیسرا خوش قسمت ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ ہے جو سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی کا حلقہ انتخاب ہے اسے حلقے کو9سو54ملین روپے ملے مذکورہ اعدادوشمار کے مطابق اس سال پی ایس ڈی پی میں سب سے کم رقم ضلع شیرانی کو ملی جو صرف175ملین روپے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں