قبل ازوقت بڑھاپا

انسانی جِلد کبھی ایک جیسی نہیں رہتی،اس پربچپن، جوانی اور بڑھاپے کے اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ عام طور پر 40سال کے بعدچہرے، ہاتھ اور پاؤں کی جِلد پر جُھرّیاں پڑنا فطری عمل ہے، تاہم بعضاوقات جُھرّیاں نوجوانی ہی میں ظاہر ہونے لگتی ہیں جس کے بےشمار عوامل ہیں۔ان میں سے کئی محرّکات ایسے ہیں جن پر قابو پانا ہمارے اختیار میں ہے۔ مثلاً سرِفہرست تو سورج کی براہِ راست شعاؤں سے محفوظ رہنا ہے۔حالانکہ مغربی مُمالک میں خاص طور پر دھوپ کے ذریعے جِلد کی رنگت گہری کی جاتی ہے۔یہ عمل طبّی اصطلاح میں”Tanned skin”کہلاتا ہے۔ چوں کہ مغرب میں ایسی جِلدصحت مند اور پُر کشش سمجھی جا تی ہے، اسی لیے وہاں کی کمپنیز سن بلاکس کریمز یا لوشنز وغیرہ میں کیمیائی اجزاء کا زیادہ استعمال کرتی ہیں،تاکہ جِلد کو Tanned کیا جاسکے۔تاہم،تحقیق سے ثابت ہوچُکا ہے کہ براہِ راست سورج کی شعاؤں میں رہنا ضمنی اثرات ظاہر کرتاہے۔ عام طور پر 40سال کی عُمر کے بعد ہی جِلد پر دھوپ کےضمنی اثرات ظاہر ہوتے ہیں، لیکن براہِ راست سورج کی شعاؤں میں رہنے سے یہ اثرات 15سال ہی کی عُمر میںظاہر ہونے لگتے ہیں۔اصل میں سورج کی شعاؤں میں الٹرا وائلٹ اے(UVA)، الٹرا وائلٹ بی(UVB) اور انفرا ریڈ ریز(infrared rays) بہت ہی نقصان دہ شعائیں ہیں جو جِلد کی ساخت متاثر کر دیتی ہیں۔یاد رکھیے،چہرے پر بڑھاپے کی 80فی صد علامات سورج کی ان ہی شعاؤں کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہیں۔ان علامات میں چہرے کی رنگت اور جِلد کی ساخت میں تبدیلی ،کالے دھبّے پڑنا،چہرے کی جِلد کاقدرتی گلابی پن ختم ہونا،باریک باریک خون کی نالیاں نمایاں ہونا، جِلد کا روکھا پن اور جُھرّیاں شامل ہیں،لہٰذا کوشش کریں کہ دیر تک اور براہِ راست سورج کی تیز شعاؤں میں نہ رہا جائے اورجب بھی گھر سے باہر نکلیں، چہرے پر سایاضرور کریں۔علاوہ ازیں، ذہنی تناؤ، نیند کی کمی، چینی کا زائد استعمال، چہرے کے پٹّھوں(muscles)کی مسلسل حرکات مثلاً ماتھے پر بل ڈالنا، کن انکھیوں سے دیکھنا (Squinting)،غیر معیاری غذا، ماحولیاتی آلودگی اور سگریٹ نوشی جیسے کئی اور عوامل بھی چہرے پر قبل از وقت بڑھاپےکے آثار، خصوصاً جُھرّیاں پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔جِلد خصوصاً چہرےکی حفاظت،قدرتی ترو تازگی برقرار رکھنے اورقبل ازوقت بڑھاپے کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیےجسم کےخصوصاً اُن حصّوں پر ،جن پہ براہِ راست دھوپ پڑتی ہو ،روزانہ سن بلاک ضرور لگائیں ،مگر سن بلاکس ہمیشہ ایسے استعمال کیے جائیں،جواپنے مُلک کی آب و ہوا اور سورج کی حدّت کے مطابق ہوں۔یعنی ان کا سن پروٹیکشن فیکٹر(Sun Protection Factor) 30یا اس سے زیادہ ہو۔ماتھے پر بل ڈالنے اور کن انکھیوں سے دیکھنے سے گریز کیا جائے۔متوازن غذا کے ساتھ پھلوں، سبزیوں کا استعمال بڑھائیں،کیوں کہ وٹامنز اور معدنیات سے بَھرپور غذائی اجزاءچہرے کی جُھرّیاں نمایاں نہیں ہونے دیتے۔ ورزش معمول کا حصّہ بنالیں کہ اس طرح جِلد ڈھلکنے سے محفوظ رہتی ہے۔ اصل میں ورزش کے ذریعے دورانِ خون تیز ہوتا ہے اور قوّتِ مدافعت بھی بڑھتی ہے،نتیجتاًجِلد تروتازہ نظر آنے لگتی ہے۔چہرے پرموئسچرائزنگ لوشن یا کر یم ہمیشہ نرم ہاتھوں سے آہستہ آہستہ لگائیں،کیوں کہ رگڑنے سے جلن ہوتی ہے،جو بعد میں جُھرّیوں کا سبب بن سکتی ہے۔وہ افراد، جنہیں چہرے پرپسینہ آتا ہو، وہ زیادہ سے زیادہ چہرہ دھوئیں، کیوں کہ پسینہ آنے سے چہرے پر جلن محسوس ہوتی ہے۔موئسچرائزر کا استعمال ضرور کریں کہ یہ جِلد کی نمی برقرار رکھتے ہیں ۔نیز،چہرے پر ایسی مصنوعات کے استعمال سے اجتناب برتیں، جو جلن پیدا کریں۔ مشاہدے میں ہے کہ بعض اوقات ڈرمالوجسٹ کوئی کریم یا لوشن تجویز کرتا ہے، جس کے لگانے سے جلن محسوس ہوتی ہے،مگر مریض معالج کو بتانے سے گریز کرتے ہیں، جو قطعاً درست نہیں۔اپنے معالج کو ضرور بتا ئیں،تاکہ کوئی متبادل کریم یا لوشن تجویز کیا جاسکے۔موجودہ دَور میں چہرے کوبڑھا پے کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے کئی جد ید طریقےمستعمل ہیں۔ مثلاً بوٹاکس، ڈرمل فِلرز(Dermal Fillers)،لیزر ری سرفیسنگ (Laser resurfacing)، کیمیکل پیلز(chemical peels) اورڈرما بریژن (Dermabrasion) وغیرہ وغیرہ ۔ تاہم، ان سب کے اثرات صرف چھے سے آٹھ ماہ برقرار رہتے ہیں، اس کے بعد دوبارہ علاج کروانا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں