قطب شمالی کے برف زاروں میں پنپتی نئی سردجنگ

ومبر کی ایک سرمئی شام قطب شمالی میں آباد جوا ہیون نامی قصبے کا نومنتخب پٹرول کمانڈر مارون ایٹکیٹک منجمد سمندر پر کھڑا اپنے جوانوں کا منتظر تھا جنھیں اس نے میٹنگ کے لیے بلایا تھا۔

اس وقت درجۂ حرارت منفی بیس ڈگری سیلسیئس تھا۔ قطب شمالی کے اعتبار سے درجۂ حرارت کی شدت بہت زیادہ کم نہیں تھی اس کے باوجود جنوب سے چلتی یخ بستہ ہوا ہڈیوں میں اترتی محسوس ہورہی تھی۔ تیزرفتار ہوا کے دوش پر آتے برف کے ذرات مارون کے چہرے سے ٹکرا رہے تھے۔ کچھ ہی دیر کے بعد بیس کے لگ بھگ مقامی مرد اور چند عورتیں (جو انوایٹ کہلاتے ہیں) مارون کے گرد جمع ہوگئے تھے۔ان سب کے شانوں پر رائفلیں جھول رہی تھیں۔ سبھی نے رینڈیئر کی کھال کی دستی ساختہ جیکٹیں پہن رکھی تھیں، پتلونیں قطبی ریچھ کی سموردارکھال سے بنائی گئی تھیں جب کہ کچھ نے سر پر پہنی ہوئی بے حد گرم ٹوپیوں پر مفلر بھی لپیٹ رکھے تھے۔ ایٹکیٹک نے سیل کی کھال سے بنے دستانے ہاتھوں پر چڑھائے اور اس دن کے پروگرام کا خاکہ بیان کرنے لگا۔دو درجن کے لگ بھگ مردوزن کا یہ گروپ کینیڈین رینجرز کا حصہ ہے جو کینیڈا کی مسلح افواج کا ریزرو جزو ہے۔ ایٹکیٹک کو بہ طور کمانڈر اس گروپ کی سربراہی کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔ اس گروپ کو ایک ہفتے تک جزیرہ کنگ ولیم کے بے شجر ساحل پر اسنوموبائل (برف پر چلنے والی اسکوٹر نما گاڑی) کے ذریعے پیٹرولنگ کرنی تھی۔یہ ایٹکٹیک کا اولین مشن تھا۔ ایک ہفتے کے دوران گروپ کے اراکین کو جی پی ایس کے استعمال کی تربیت دی جانی تھی، انھیں فوج کے انداز میں ہدف کو نشانہ بنانا سکھایا جاتا، سرچ اینڈ ریسکیو کی صورتحال میں فرائض کی ادائیگی سکھائی جاتی۔ اس کے علاوہ گروپ کو شکار اور آئس فشنگ کے بھی مواقع میسر آنے تھے۔میں دائرے کے کنارے کھڑا اپنی پلکوں پر جم جانے والے برف کے ذرات جھاڑ رہا تھا۔ میری نگاہیں ان کے چہروں کا طواف کررہی تھیں جن پر کہیں کہیں سرما زدگی (فراسٹ بائٹ) کے نشانات نظر آرہے تھے جو ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھے۔ تمغوں کے مانند ان کے چہروں پر سجے یہ نشانات کرۂ ارض کے ناموافق ترین حالات کے حامل خطے میں کھلے آسمان تلے بِتائے گئے وقت کی غمازی بھی کررہے تھے۔جلد ہی گروپ کی میٹنگ اختتام کو پہنچی اور پھر وہ دو دو چارچار کی ٹکڑیوں میں بٹ کر تاریکی میں لمبی مسافت پر روانہ ہونے سے قبل سگریٹ نوشی سے لطف اندوز ہونے لگے۔ ایٹکیٹک برف پر چلتا ہوا میرے پاس آیا اور دریافت کیا کہ کیا میرا لباس جسم کو گرم رکھنے کے لیے کافی ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ایٹکیٹک درازقد اور چوڑے شانوں والا ہنس مُکھ شخص تھا۔ کمانڈر منتخب ہونے سے پہلے اسے بہ طور رینجر خدمات انجام دیتے ہوئے برسوں گزرچکے تھے۔ اس نے دوستانہ انداز میں مجھے تنبیہہ کی کہ دوران سفر میں سو نہ جاؤں۔’’ایسا ہوتا رہتا ہے‘‘، اس نے کہا۔ ’’کئی بار ایسا ہوا کہ لوگ اپنی اسنوموبائل سے گر کر لاپتا ہوگئے۔‘‘ ایٹکیٹک نے مجھے یاد دلایا کہ جزیرے سمیت Nunavut کے پورے علاقے میں کہیں بھی سیل فون سروس نہیں ہے۔’’اگر کسی وجہ سے آپ ہم سے جُدا ہوجاتے ہیں تو اس صورت میں اسی جگہ پر بیٹھے رہیں تاوقتے کہ کوئی آپ تک پہنچ جائے۔‘‘ وہ بولا۔ ’’اور کوشش کریں کہ کسی قطبی ریچھ سے مڈبھیڑ نہ ہو۔‘‘رینجرز کو ’قطب شمالی میں کینیڈا کی آنکھیں اور کان‘ کہا جاتا ہے۔ ان کے یونٹ 1940ء کی دہائی سے ملک کے سب سے بیرونی سرحدی حصوںمیں پیٹرولنگ کرتے آرہے ہیں۔ قطب شمالی کے بعید ترین علاقوں میں فرائض کی ادائیگی میں مصروف بیشتر رینجرز مقامی رضاکار ہیں۔ گزرے برسوں میں انھوں نے اسکاؤٹس کے طور پر بھی اپنا کردار نبھایا ہے، جنگی کھیلوں میں حصہ لیا ہے۔فوجیوں کو اگلو بنانا سکھایا ہے اور قطب شمالی کے بے شجر میدانوں (ٹنڈرا) میں نقل و حرکت کرنے اور انتہائی یخ بستہ موسم میں زندگی سے ناتا جوڑے رکھنے میں ان کی مدد کی ہے۔ قطب شمالی کے بعیدترین حصوں کے مانند کینیڈا اور باقی دنیا کے لیے رینجرز کے شب و روز دھندلکے میں لپٹے ہوئے ہیں۔ یہ قلیل بجٹ اور استعمال شدہ ہتھیاروں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے آرہے ہیں جن میں 1940ء کے عشرے میں بنی ہوئی برطانیہ کی سرکاری بولٹ ایکشن رائفلیں بھی شامل ہیں جن پر ملکہ برطانیہ کے تاج کی شبیہ بہ طور مہر کندہ ہے۔میرے دورے کے موقع پر کینیڈا کی حکومت رینجرز کی ازسرنوتعیناتیاں کررہی تھی۔ سبب یہ تھا کہ قطب شمالی اور اس میں چھپے وسیع معدنی ذخائر پر حق ملکیت جتانے کی عالمی دوڑ سے متعلق اطلاعات نے اوٹاوا میں براجمان سیاست دانوں کو رینجرز سے زیادہ فنڈز اور بہتر اسلحہ و سازوسامان مہیا کرنے اور مزید رضاکاروں کی بھرتی جیسے وعدوں پر مجبور کردیا تھا۔ امریکا کے عسکری حکام کی بھی قطب شمالی کے پوشیدہ ذخائر پر نظر تھی اور وہ الاسکا میں اسی نوعیت کی سرگرمیاں شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں