پاک بھارت مقابلہ، جوہری میدان میں

یہ حقیقت ہے کہ 17 اگست 1988 کا واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اب دنیا بہت تیز ی اور بیدردی سے تبدیل ہو رہی تھی، یہ اتفاق ہی ہو سکتا ہے کہ اُن دنوں ہالی وڈ کی ایک فلم اسپیڈ کے نام سے آئی۔جس کا مرکزی خیال یہ تھا ،،کہ ایک مسافر بس میں ولن بم پلانٹ کر دیتا ہے اور ہیرو کو پیغام دیتا ہے کہ اگر بس کی رفتارایک خاص حد سے کم کی گئی تو بم پھٹ جا ئے گا اور بس مسافروں سمیت تباہ ہو جائے، شائد یہ سپر پاور کا   پوری دنیا کے لیے ایک پیغام تھا، پھر انہی دنوں یعنی نوے کی دہا ئی کے آغاز پرہی Samuel P Huntington کی شہرہ آفاق کتاب ( The Clash of Civilizations )Remaking of the World Order سامنے آئی اگرچہ ’’ تہذیبوں کا تصادم ‘‘ کے عنوان سے کتاب سے چند برس پہلے ہی اس موضوع پر سیمول پی ہنٹینگٹون کے مضامین سامنے آنے لگے تھے۔جن کے موضوعات کو کتابی شکل میں سامنے لایا گیا۔ جس میں انہوں نے سوویت یونین اور اس کے ساتھ کیمونزم کے خاتمے پر دنیا میں دوبارہ بڑی تہذیبوں کے درمیان ملکوں کی جنگوں کے بارے میں پیش گو ئی کی تھی اوراس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا تھا کہ اس بد لتی ہو ئی صورتحال میں اسلامی دنیا کے اکثر ممالک تباہی وبربادی کا شکار ہو نگے،پاکستان میں یہ تبدیلی بڑے عجیب انداز میں آئی تھی۔ایک طرف بہاولپور کے فضا ئی حادثے میں وہ فوجی قیادت جان سے گئی تھی جس نے نہ صرف ملک پر گیارہ سال حکومت کرتے ہو ئے اپنی سیاسی ضرورتوں کے لیے انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں نئی سیاسی قیادتوں اور سیاسی جماعتوں کی تشکیل بھی کی تھی بلکہ پھر افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کی اس تیز رفتاری کا سبب بھی بنی تھی مگر اب جنرل ضیا الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن نہیں تھے اوراب پاکستان میں ایک بار پھر ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا جیسا منجھا ہوا بیوروکریٹ 1973 کے آئین میں آٹھویں ترمیم بشمول 58B2 کے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور حکومت کو برخاست کے اختیارات کے ساتھ صدر مملکت ہو گیا تھا۔غلام اسحاق خان 1915 میں پیدا ہو ئے تھے۔ 1941 میں انڈین سول سروس جوائن کی اور آزادی کے بعد ہی خیبر پختونخوا کے صو بائی سیکرٹری رہے۔ 1955 میں ون یو نٹ کے قیام کے بعد وہ پہلے مغربی پاکستان اور پھر وفاق میں مختلف عہدوں پر فائز رہے، بھٹو دور میں وہ 22 دسمبر1971 سے 30 نومبر1975 تک گورنر اسٹیٹ بنک رہے۔ 12 اکتوبر 1975 سے5 جولائی1977 تک وہ سیکرٹری دفاع رہے۔پانچ جولائی 1977 میں مارشل لا کے نفاذ پر وہ 21 مارچ 1985 تک وفاقی سیکرٹری خزانہ رہے، اسی دوران انہوں نے اپنے لیے وفاق میں صدر ضیا الحق سے سیکر ٹری انچیف کا نیا عہدہ بھی تخلیق کروایا جو اِن کی عارضی مدت کے بعد ختم ہو گیا۔21 مارچ 1985 سے 17 اگست 1988 تک وہ چیئرمین سینٹ رہے اور پھر17 اگست 1988 سے 18 جولائی 1993 تک وہ پا کستان کے صدر رہے۔غلام اسحاق خان بہت تجربہ کار اور زیرک ضرور تھے مگر عالمی سطح پر رونما ہو نے والی تبدیلیوں اوردنیا کے اُس وقت کے تیزی سے بدلتے حالات کے لحا ظ سے غالباً اُن کا ویژن قدرے محدود تھا کیونکہ اپنی طویل ملازمت کے دوران اور پھر بطور چیئرمین سینٹ اُن کا اس شعبے سے واسطہ نہیں رہا تھا اور ویسے بھی صدر جنرل ضیا الحق کے پورے دور میں صاحبزادہ یعقوب خان جیسی تجربہ کار اور دوربین نظرکی حامل شخصیت وزیر ِخارجہ رہی۔ غلام اسحاق خان کے دور صدارت میں تین وزراء اعظم بینظیر بھٹو، نوازشریف اور نگران وزیر اعظم غلام مصطفٰی جتوئی رہے۔اسی طرح اِن کے دورصدارت میں تین آرمی چیف بھی رہے جن میں جنرل مرزا اسلم بیگ، جنرل آصف نواز اور جنرل وحید کا کڑ شامل ہیں۔ صدر جنرل ضیا الحق کی وفات کے بعد قانون کے مطابق چیئرمین سینٹ غلام اسحاق خان صدر ہوئے تھے۔بحیثیت صدر انہوں نے جنرل مرزا اسلم بیگ کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا، پھر شیڈول کے مطابق 16 نومبر 1988کو اُنہوں نے عام انتخابات کروائے جس میں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی کل 207 جنرل نشستوں میں سے 94 نشستیں حاصل کر کے اشتراک سے کمزور وفاقی حکومت  بنائی اور 2 ستمبر 1988 کو بینظیر بھٹو تاریخ میں پہلی مسلم خاتون وزیراعظم بنیں، 12 دسمبر 1988 کو غلام اسحاق خان 348 ووٹ لیکر پانچ سال کی مدت کے لیے ملک کے صدر منتخب ہو گئے، اِن کے مقابلے میں نوابزادہ نصر اللہ خان کو 91 اور جعفر ہارون کو 16 ووٹ ملے، 6 اگست 1990 کو صدر اسحاق خان نے 58-B2 کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کر دی اور بینظیر بھٹو کی حکومت کو برخاست کر دیا اور تین ماہ کی عبوری مدت کے لیے غلام مصظفیٰ جتوئی کو نگران وزیراعظم مقرر کیا ۔

یکم نومبر 1990 کو ہونے والے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحادی نے قومی اسمبلی کی207 جنرل نشستوں میں سے 106 نشستیں لیکر حکومت بنائی اور میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم ہوئے مگر حالات یہ بتاتے ہیں کہ اس دوران جب بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں رہیں تو ایک جانب تو اِن دونوں سیاسی لیڈروں نے ایک دوسرے کے خلا ف شدید انتقامی کاروائیاں کیں ایک دوسرے کے خلاف قانونی طور پر اقدامات بھی کئے تو دوسری جانب عالمی سطح پر بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں اِن کے اسٹیلشمنٹ سے بھی بہت سے اختلافات سامنے آتے رہے چونکہ یہ دور جو پاکستان کے اعتبار سے1988 سے شروع ہوا تھا بہت نازک دور تھا اُس وقت بیک وقت امور خارجہ، مالیاتی و اقتصادیات یعنی وزارت خزانہ اور وزارت دفاع پر بھر پور توجہ کی ضرورت تھی کہ 1945 سے 1990تک جاری رہنے والی روایتی سرد جنگ دنیا سے ختم ہو رہی تھی۔اشتراکیت کے خاتمے پر نہ صرف دو طاقتی اور دو اقتصاد ی  نظام دنیا سے ختم ہو رہے تھے تو ساتھ ہی اس خلا کے تیزی سے پُر ہونے پر منطقی اعتبار سے دنیا بھر میں خصوصاً ان دونوں شعبوں میں ایک زلزلے کی سی کیفیت تھی، سیاسی، عسکری، دفاعی محاذوں پر اِس زلزلے کے نیچے لاوے کی لہریں جو گرافس بنا رہی تھیں بڑی قوتیں اور درمیانی مگر اہم قوتیں اپنی اپنی اسٹیبلشمنٹ کی خفیہ ایجنسیوں سے اُس کے ٹھیک ٹھیک پرنٹ حاصل کر نے کی تگ و دو میں تھیں، پاکستان کے لیے اب بہت پیچیدہ اور خطرناک صورتحال پیدا ہو رہی تھی۔افغانستان میں جنیوا معاہدہ قیام امن کے لیے کچھ نہ کر سکا تھا ، بھارت جہاں 1987 تک کشمیر کی تحریک اور خالصتان کی تحریک اس قدر تیز تھی کہ بھارت کی سیاسی قیادت بھارت کے مستقبل سے پریشان تھی، اب یوں لگتا تھا کہ بھارت نہ صرف مطمئین ہے بلکہ اب وہ پاکستان کے لیے پریشانی کا سبب بن رہا تھا، حکومتی سطح پر دونوں جماعتوں کے شدید اختلا فات کے ساتھ صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختلافات نواز شریف کے پہلے دورِ حکو مت میں ہی سامنے آگئے حالانکہ وہ صدر ضیا الحق کے متعارف کردہ سیاسی لیڈر تھے۔یوں 8 اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلی تحلیل کر کے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیا لیکن سپریم کورٹ نے بحالی کے احکامات صادر کئے تو سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا اور اُس وقت آرمی چیف عبد الوحید کاکڑ کے فارمولے کے تحت پہلے وزیراعظم نے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس دی اور اسمبلی کی تحلیل کے بعد صدر بھی مستعفی ہو گئے۔جو مسئلہ اُس وقت صدر غلام اسحاق خان پھر صدر لغاری اور اسی طرح جنرل اسلم بیگ، جنرل آصف نواز، جنرل عبدالوحید کا کڑ اور جنرل جہانگیر کرامت کے سامنے تھا وہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا تھا ۔کیو نکہ بھارت جس نے اپنا پہلا بنیادی نوعیت کا ایٹمی دھماکہ 1974 میں کیا تھا اورپھر 1987 میں جنرل ضیا الحق نے جو کچھ پیغام بھارتی وزیراعظم کو دے دیا تھا اُس کے بعد صورتحا ل عالمی سطح پر نازک ہو تی جا رہی تھی، امریکہ نے اپنا پہلا ایٹمی ٹیسٹ دھماکہ 16 جولائی 1945 کو کیا تھا، سوویت یونین نے پہلا ایٹمی دھماکہ29 اگست1949 کو کیا، برطانیہ نے 3 اکتوبر 1952 کو دھماکہ کیا، فرانس نے13 فروری1960 کو ایٹمی دھماکہ کیا اور چین نے 16 اکتوبر 1964 کو کامیاب ایٹمی دھماکہ کیا تھا۔اب پاکستان کو جو اطلا عات اپنے خفیہ ذرائع سے مل رہی تھیں وہ یہ تھیں کہ بھارت کامیاب ایٹمی دھماکہ کرکے دنیا کی چھٹی اعلانیہ ایٹمی قوت بن جا ئے گا اور پاکستان کو اس کے مقابلے میں تکنیکی، سائنسی، سیاسی انداز میں ہر طرح سے اعلانیہ ایٹمی قو ت بننے سے روکا جائے گا، اگر چہ پاکستان نے بنیادی ایٹمی صلا حیت 1978 ہی میں حاصل کر لی تھی مگر بھرپور صلاحیت 1982 سے حاصل کر چکا تھا، اس پر اُس وقت عالمی قوتوں کی خاموشی غالباً اس لیے بھی تھی کہ سوویت یونین اور بھارت پاکستان کے خلاف کسی مشترکہ فوجی جنگی کاروائی سے باز رہیں۔پاکستان نے اپنے ایٹمی اثاثوں کے حق میں دنیا کے سامنے بہت محنت اورخوبی سے کامیاب وکالت کی۔ 1974 سے پا کستان کا بشمول بھارت دنیا سے مطالبہ رہا کہ جنوبی ایشیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک علا قہ قرار دیا جائے، 1986میں ہی گورباچوف اور ا مریکی صدر رونالڈ ریگن دونوں ہی ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے پر اتفاق کر رہے تھے، اور عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف آوازیں زیادہ بلند ہونے لگیں،11 اور12 اکتوبر 1986 کو گوربا چوف اور ریگن میں ایٹمی ہتھیاروں کو محد ود کرنے پر مذاکرات ہوئے، 8 دسمبر1987 کو سوویت یونین اور امریکہ نے 3000 سے 3500 میل تک زمین سے مار کرنے والے میزائلوں کو ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے، جنوبی افریقہ جہاں عرصے سے اقلیتی سفید فام نسل پرست حکومت تھی۔وہاں 1991-92 میں نیلسن منڈیلا کی مفاہمت کی پالیسی کی وجہ سے جمہوریت کی بحالی پر ساوتھ افریقہ نے اعلان کیا کہ اُس نے اپنے چھ ایٹم بم ختم کر دئیے اور NPT پر دستخط کر دیئے،15دسمبر 1995 کوجنوب مشرقی ایشیا کو غیر ایٹمی علاقہ قرار دے دیا گیا جس میں برما، فلپائن، لاوس، ویتنام اور انڈونیشیا شامل ہیں،11 اپریل1996 کو افریقہ کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دیا گیا۔اس میں مصر سمیت 46 ممالک شامل ہیں، یکم جون 1996 میں یوکرائن نے اپنا آخری نیوکلیئر ہتھیار بھی روس کو واپس کر دیا اور غیر ایٹمی ملک بن گیا اور 8 جولائی 1996 کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے ایٹمی ہتھیاروں کو غیر قانونی قرار دے دیا، 24 ستمبر 1996 کواقوام متحدہ میں Total nuclear test ban کل جوہری ہتھیاروں کے تجربے پر پابند ی کی قرارداد پر اکثر ممالک نے چین، روس، برطانیہ ،فرانس اور امریکہ سمیت دستخط کردئیے، بھارت نے دستخط کرنے سے انکار کردیا ، نومبر 1996 تک بلاروس اور قازقستان جو سوویت یونین کے بعد ایٹمی ہتھیار رکھتے تھے، ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو گئے اور اپنے ایٹمی ہتھیار روس کو واپس کر دئیے۔اس دوران 19 اکتوبر 1993 کو بینظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بنیں اور فاروق لغاری 13 نومبر 1993 کو وسیم سجاد کے168 ووٹ کے مقابلے میں 274 ووٹ لیکر صدر منتخب ہوئے اور پھر 5 نومبر 1996 کو صدر فارق لغاری نے اسمبلی توڑ کو بینظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کر دیا۔فروری 1997 کے عام انتخابات میں نوازشریف بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے، یوں 1990 کے بعد سے اور 1993 سے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے ٹیسٹ کے خلاف پوری دنیا کی رائے یہ تھی کہ اب کوئی ایٹمی دھماکہ نہ ہو مگر بھارت بہت تیزی سے اپنے ایٹمی ہتھیار بنا کر اِن کو ٹیسٹ کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا اور درپردہ اس حوالے سے اُس نے بڑی قوتوں کے بعض عناصر سے ممکنہ اقتصادی مالیاتی پابندیوں پر ضمانتیں بھی لے رکھی تھیں اور ایک غیر اعلانیہ ایٹمی قوت کی اُسے حمایت بھی حاصل تھی۔یوںصدر غلام اسحاق ، صدر فاروق لغاری اور جنرل اسلم بیگ، جنرل آصف نواز ،جنرل جہانگیر کرامت ، یہ وہ شخصیات تھیں جن کے دور میں بہت خاموشی سے چاغی کے پہاڑوں میں راس کوہ کے نیچے ہزاروں فٹ کی گہرائی تک آہنی مضبوطی کی سرنگیں تعمیر ہوتی رہیں یہ گہری اور طویل سرنگیں چاغی اور آواران میں 1990 کی دہائی کے آغاز سے شروع کر دی گئیں تھیں جس کے لیے ایسے میٹریل کی ضرورت تھی جو ایٹمی دھماکوں کی قوت کو یہاں زمین کے پاتال میں برداشت کر سکے اور یہ ضروری تھا کہ تابکاری کے اثرات کو پوری گارنٹی کے ساتھ روکا جائے ورنہ بھارت سمیت امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر ملکوں نے اقوام متحد ہ  کے ذریعے پا کستان پر دباؤ ڈال کر اُسے اِس کے ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کر دینا تھا۔اس لیے یہاں نہ صرف اس نکتہ نظر سے پوری تیاری کی گئی بلکہ ساتھ ہی اس کا اندیشہ بھی تھا کہ جب پاکستان یہاں اپنے ایٹمی دھماکے کرے تو سیٹلائٹ اور جدید خلا ئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جیمرز کی مدد سے دھماکوں کو منجمد کر دیا جائے، یوں اس کے لیے بھی پاکستان کے عظیم سپوت ڈاکٹر قدیرخان نے اپنے ساتھی سائنس دانوں کی مدد سے ایسے انتظامات کر لیے تھے جو اس طرح کی خلائی ٹیکنالوجی کو بے اثر کردیں۔اُس وقت پوری دنیا ایٹمی د ھماکوں کے شدید خلاف تھی اور دنیا کے ملکوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے حوصلے اس لیے بھی بلند تھے کہ اب سرد جنگ ختم ہو گئی تھی اور روس کے گورباچوف اور امریکی صدر ریگن دونوں ہی ایٹمی دھماکوں یا نیوکلیئر ٹیسٹ کے خلاف تھے اور اس کی سب سے بڑی وجہ دنیا بھر میں قدرتی ماحولیات کی تیز رفتاری سے تباہی تھی، اس وقت تک امریکہ ریکارڈ کے مطابق 1945 سے نوے کی دہائی تک 1032 ایٹمی ٹیسٹ یا تجربات میں 1132 ایٹمی دھماکے کر چکا تھا جب کہ بارہ دھماکوں کا ریکارڈ ظاہر نہیں، یوں دنیا میں ہونے والے کل ایٹمی دھماکوں میں امریکہ کا تناسب 48.7% سوویت یونین نے727 ایٹمی تجربات میں ریکارڈ کے مطابق981 ایٹمی دھماکے کئے اور 248 دھماکے ریکارڈ پر نہیں، ایٹمی تجربات اور دھماکوں میں روس کا تناسب 34.4% ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں