نمرتا ہلاکت کیس میں اہم ترین شواہد لیبارٹری ہی نہ بھجوانے کا انکشاف

لاڑکانہ: نمرتا ہلاکت کیس میں پولیس کی جانب سے متوفیہ کے دوپٹے سمیت دیگر اہم شواہد ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نابھجوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

آصفہ بی بی ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالب علم نمرتا کے گلے سے بندھے دوپٹے کی ڈی این اے رپورٹ بھی لاڑکانہ پولیس کو موصول ہو گئی ہے۔ رپورٹ فارنزک لیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کو پولیس نے جوڈیشل انکوائری آفیسر کے روبرو پیش کردیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرانزک ماہرین کو دوپٹے سے کسی قسم کے اسکن ٹشوز یا خون کے دھبے نہیں ملے جن سے ڈی این اے حاصل کیا جاسکے، 72 گھنٹوں تک کپڑے پے موجود چمڑی کے ٹکڑوں سے ڈی این لیا جاسکتا تھا تاہم تاخیر کے باعث ڈی این اے ملنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ نمرتا کے گلے میں موت کے وقت بندھے دوپٹے کو واقعے کے ایک ہفتے کے بعد ڈی این اے کے لیے بھیجا گیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے دوران نمرتا کے ناخن ڈی این اے کے لیے بھیجنا ضروری تھا ناخنوں کے ڈی این اے سے خود کشی اور قتل کا معمہ حل ہوسکتا تھا۔

نمرتا ہلاکت کیس کیا ہے؟

نمرتا چندانی لاڑکانہ میں واقع آصفہ بی بی ڈینٹل کالج کی طالبہ تھیں اور اسی کالج کے ہاسٹل کے کمرہ نمبر 3 سے ان کی لاش برآمد ہوئی تھی، نمرتا کی موت کی وجہ گلے کا گھٹنا قرار دی گئی تھی تاہم ان کے خاندان نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نمرتا کماری کی موت سے قبل جنسی عمل کا بھی انکشاف ہوا تھا،نمرتا کے جسم سے تیسرے شخص کا ڈی این اے بھی مل گیا تاہم شناخت نہ ہوسکی۔ تاہم جوڈیشل انکوائری آفیسر نے اس پر رپورٹ مرتب کرنے والی خاتون ڈاکٹر کی سرزنش کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں