غریب کا احساس کیجیے

کیا آپ نے کبھی یہ غور کیا ہے کہ انسانی جسم کی ساخت سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ کون غریب ہے اور کون امیر؟ یعنی اگر دیکھا جائے تو غریب اور امیر دونوں کی ہی دو، دو آنکھیں ہوتی ہیں، ایک ناک، دو ہاتھ، دو ٹانگیں، ایک سر، ایک دھڑ، دل و دماغ بھی چاہے امیر ہو یا پھر غریب ایک انسانی ڈھانچے میں ایک ہی ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس انسان کے خالق نے اسے تخلیق کرتے وقت یہ فرق نہیں رکھا۔ دونوں طبقات کو اپنی نعمتیں عطا کرتے وقت اس کے رتبے کو نہیں دیکھا بلکہ اپنی عطا کو دیکھ کر اس نے انمول نعمتوں سے نواز دیا ہے۔ پھر سوال ہے کہ ہم کون ہیں، ان دونوں میں فرق کرنے والے؟

ابتدائے انسان کو دیکھیے تو ایک ہی آدم کا وجود تھا، جس سے نسل انسانی آگے بڑھی، یعنی ایک ہی باپ کی سب اولاد۔ انہیں آپ بھائی بھائی کہہ سکتے ہیں، پھر کیسا فرق؟ کون امیر، کون غریب، سب برابر ہیں۔ بس بات سمجھنے کی بات ہے، بات غوروفکر کی ہے۔ایک دن دل کیا کہ کیوں نہ آج کسی ڈھابے پر بیٹھ کر لکڑی کی آگ سے تندور میں بنی روٹی کے ساتھ قیمہ کھایا جائے۔ لہٰذا گرین بیلٹ پر پڑی کرسیوں پر بیٹھ کر قیمے کا آرڈر دیا۔ گرماگرم قیمہ ٹیبل پر تازہ روٹیوں کے ساتھ سج گیا۔ میں نے ابھی لقمہ اٹھایا ہی تھا کہ ایک ضعیف العمر شہری نے دست سوال دراز کیا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ گھر میں راشن نہیں، اتنی مدد کردیں کہ ایک وقت کا کھانا تیار ہوسکے۔ نجانے کیوں بات دل کو لگی، لقمہ منہ میں ڈالنے سے پہلے ہی بابا جی کو حسب توفیق کچھ رقم دی۔ وہ پھر وہاں رُکا نہیں، فٹ پاتھ پر چلتے چلتے نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ مجھے یہ محسوس ہوا کہ اس کا آج یہی مسئلہ تھا، جو اللہ نے مجھے ہدایت دی اور اس کا یہ مسئلہ حل ہوگیا۔میں کھانا کھاتے وقت یہ سوچ رہا تھا کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کےلیے نجانے روزانہ کتنے پیسے خرچ کردیتے ہیں۔ ہم اپنی مرضی سے گوشت کھا سکتے ہیں، ہم پھل کھا سکتے ہیں۔ ہمارا جو جی چاہتا ہے ہم مارکیٹ سے جاکر خرید لیتے ہیں۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے کہ جن کا روزانہ کا مسئلہ صرف دو وقت کی روٹی ہے۔ لیکن جب ایسے لوگ دست سوال دراز کرتے ہیں تو ہم سنی اَن سنی کردیتے ہیں۔ ہم توجہ نہیں دیتے یا پھر ہم انہیں پیشہ ور بھکاری تصور کرتے ہوئے نظرانداز کردیتے ہیں۔آپ میں سے اکثر لوگوں نے یہ نوٹ کیا ہوگا کہ جب ہم کسی بڑے ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں تو اس کا بل اتنا بن جاتا ہے کہ ایک آدمی ان پیسوں سے پورا مہینہ کھانا کھا سکتا ہے۔ ہم صرف اپنی خواہش کی تکمیل پر اپنی مرضی سے زیادہ رقم خرچ کردیتے ہیں۔ پھر وہاں سے رخصت ہوتے ہوئے ویٹر کو بھی خوش کرتے ہیں تاکہ ہوٹل ملازمین میں اس کی واہ، واہ ہو کہ دیکھو کتنا سخی بندہ ہے، کتنے بڑے دل کا بندہ ہے اور آئندہ جب ہم وہاں جائیں تو خوب پروٹوکول ملے۔ لیکن اس ہوٹل کے دروازے پر کھڑا غریب آدمی جب صرف دس روپے کا سوال کرتا ہے تو ہم غصے سے لال پیلے ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی سوچتے ہیں کہ کیا مصیبت ہے، ہر جگہ مانگنے والے ہیں، سکون سے کھانا بھی نہیں کھانے دیتے، پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف انتظامیہ نجانے کب ایکشن لے گی؟ ہٹے کٹے ہیں، پتہ نہیں کماتے کیوں نہیں؟ بھلا مانگنے سے یہ بہتر نہیں کہ کچھ کمالیں۔بھیک مانگنا بالکل بھی اچھا عمل نہیں، مگر جب کوئی دست سوال دراز کرتا ہے تو پھر ہمیں یہ اختیار کس نے دے رکھا ہے کہ ہم اسے خود ہی پیشہ ور بھکاری سمجھ کر نظرانداز کردیں؟ کیا ہماری طرح وہ بھی خدا کے بندے نہیں؟ کیا حقوق العباد میں اس غریب کا بھی حصہ نہیں کہ ہم اس کی بات سنیں، اس کی مشکل حل کریں۔ اس کی بھوک، پیاس کا خیال رکھیں۔کیا یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ انسان برابر ہیں۔ مال و دولت اسی خالق کی عطا ہے جس نے غریب کو بھی پیدا کیا ہے اور امیر کو بھی۔ جب ہم کسی انسان کو نظرانداز کرتے ہیں تو کیا ہم اس کے خالق کو ناراض تو نہیں کررہے؟ غریب کا احساس کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ ضرور دیں۔ خالی ہاتھ واپس نہ جانے دیں۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ یہ نہ ہوکہ کل کو آپ اس شخص کی جگہ ہوں اور وہ آپ کی جگہ ہو۔ پھر احساس ہوگا تو بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ وقت سے پہلے احساس کیجئے تاکہ دنیا میں رہنے والے محروم افراد کی محرومیاں ختم ہوسکیں اور آخرت میں بھی اجر کی امید ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں