نواز شریف کی طبیعت میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے: حسین نواز

سابق وزیراعظم نوازشریف کے بیٹے حسین نواز نے کہا ہے کہ والد کی طبیعت میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ 

نوازشریف لندن میں علاج کی غرض سے 19 نومبر سے موجود ہیں اوراس دوران وہ 3 بار طبی معائنے کے لیے گھرسے باہر نکلے ہیں۔خاندانی ذرائع کے مطابق نواز شریف آج کا دن بھی گھر پر گزاریں گے جہاں ان کے 2 تھراپی سیشن ہوں گے، اس کے علاوہ انہیں قوت مدافعت بڑھانے والی ادویات بھی دی جارہی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کا ’پی ای ٹی‘ اسکین جمعرات کو ہوگا جس کے بعد ڈاکٹرز علاج سے متعلق لائحہ عمل طے کریں گے۔سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق ان کے بیٹے حسین نواز کا کہنا ہے کہ خواہش ہے کہ نوازشریف کا علاج ایک چھت تلے ہو لیکن ان کی طبیعت میں بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے، والد کو متعدد بار مشورہ دیاکہ امریکا سے علاج کروائیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے چند روز میں متعدد بار اسپتال جانا پڑے گا، بون میرو کی تشخیص کا معاملہ حساس ہے لہٰذا قوم ان کی صحتیابی سے متعلق دعا کرے۔

نوازشریف کیس میں کب کیا ہوا؟

21 اور 22 اکتوبر کی درمیانی شب نواز شریف کی طبعیت خراب ہوئی اور اسپتال منتقل کیاگیا

25 اکتوبر، چوہدری شوگر ملز کیس میں طبی بنیاد پر نواز شریف کی ضمانت منظور ہوئی

26 اکتوبر، العزيزيہ ریفرنس میں انسانی بنیادوں پر نوازشریف کی عبوری ضمانت منظور ہوئی

26 اکتوبر، نواز شریف کو ہلکا ہارٹ اٹیک ہوا، وزیرصحت پنجاب یاسمین راشد نے تصدیق کی

29 اکتوبر، العزيزيہ ریفرنس میں طبی بنیاد پر نوازشریف کی 2 ماہ کے لیے سزا معطل کردی گئی

نوازشریف سروسزاسپتال سے ڈسچارج ہوئے، جاتی امرا میں آئی سی یوبناکرمنتقل کیا گیا

8 نومبر، شہباز شریف نے وزارت داخلہ کو نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی

12 نومبر، وفاقی کابینہ نے نوازشریف کو باہر جانے کی مشروط اجازت دی

14 نومبر، ن لیگ نے انڈيمنٹی بانڈ کی شرط لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردی

16 نومبر، لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی

19 نومبر، نواز شریف علاج کے لیے لندن روانہ ہوگئے

20 نومبر ،لندن کے گائز اسپتال میں نواز شریف کا 4 گھنٹے تک طبی معائنہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں