ثناءبلوچ نے صوبائی حکومت کو چمن بزنس کوریڈور کا ماڈل بنانے کی پیشکش کردی

بلوچستان اسمبلی میں بی این پی کے رکن و سابق سینیٹر ثناءبلوچ نے صوبائی حکومت کو چمن بزنس کوریڈور بنانے کی تجویز دیتے ہوئے اس حوالے سے صوبائی حکومت کو پیش کش بھی کردی ہے کہ اگر حکومت چاہے تو وہ اس پر کام کرکے ابتدائی ماڈل حکومت کو بنا کر دے سکتے ہیں ۔ وہ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں چمن سرحد پر پیش آنے والے بدامنی واقعات سے متعلق تحریک التواءپر اظہار خیال کررہے تھے ثناءبلوچ نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ چمن بزنس کوریڈوربنائے اس کے لئے وہ حکومت کوماڈل بنا کر دینے کو تیار ہیں انہوںنے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جو اسلام آباد اور افغان حکام سے بات کرے صوبے کے نوجوانوں کے لئے بزنس کا رڈ کا اجراءکیا جائے انہوںنے کہا کہ دنیا میں وہ ممالک خوش قسمت تصور ہوتے ہیں جن کے پاس دو چار کلو میٹر کی طویل سرحد ہو جبکہ ہمارے پاس د وہزار کلو میٹر سرحد ، ساڑھے سات سو کلو میٹر ساحل ہے بلوچستان کے 13اضلاع کا دارومدار انہی سرحدوں پر ہے لیکن ہم نے ان کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی بلوچستان کے78فیصد لوگ کثیر الجہتی غربت کاشکار ہیں انہوںنے کہا کہ ہم نے 70سالوں میں اپنے نوجوانوں کو دیا کیاہے جو ہم نے ان ڈسپلن کا تقاضا کررہے ہیں یہاں تو حالت یہ ہے کہ گزشتہ روز حکومت نے بھی اخباری بیان میں لفظ لغڑی کا استعمال کیا تھا اس سے بڑھ کر تضحیک کیا ہوسکتی ہے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں