لورالائی جرگہ اورخواتین کے حقوق

تحریر :عبدالمتین آخوند زادہ


معاشرتی و معاشی ضروریات اور خواہشات میں مرد وعورت دونوں برابر کے شریک ہیں اگرچہ خواتین کا بنیادی کام مالک ارض و سماءکے نظام کائنات میں انسان سازی ہے اور مردوں نے زندگی کی گاڑی یعنی معاشی اور سماجی مسائل کو ڈیل کرنا ہے او خواتین اور بچوں کے ساتھ اپنے آپ کو سہولت اور حفاظت فراہم کرنی ہے۔لیکن اب مردوں نے اپنے زور بازو اور اپنے جسمانی قوت سے غلط استدلال کرتے ہوئے اپنے لئے خود ساختہ قوانین مرتب کرنے شروع کئے ہیں جبکہ خواتین اور معصوم و نازک کلیاں یعنی بچیاں ہمارے معاشرے میں زور بازو سے محرومی کی بنیادی وجہ کے باعث زندگی کے دوڑ میں نسل در نسل پیچھے رہ گئے ہیں۔عورت کے کردار اور زندگی میںاہمیت کے پیشِ نظر ذہنیت کی تبدیلی کے ساتھ ہی بیانیے کے تشکیل و تنظیم اور اجتماعی ذھنیت کی بنیاد پر قانون سازی کی قوت کے ذریعے ہی معاشرے میں خواتین کی بقاءاور استحکام پوشیدہ ہے۔انہیں بنیادی مقصد کے پیش نظر گزشتہ دنوں لورالائی میں ضلعی انتظامیہ کے زیر انتظام قبائلی جرگے کا انعقاد ہوا جس کی صدارت جناب سردار ایاز خان موسیٰ خیل،ایڈنیشنل ڈپٹی کمشنر لورالائی نے کی،جس میں شرکت کے لئے کوئٹہ سے لورالائی کا سفر کیا گیا،میرے ساتھ جرگے میں تنظیم اساتذہ کے صوبائی صدر پروفیسر عبد الرحمن موسیٰ خیل بھی شریک ہوئے جبکہ لورالائی کے ضلعی انتظامیہ سمیت سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لیڈروں اور قبائلی شخصیات نے شرکت کی،جن میں بزرگ قبائلی شخصیت سابق تحصیل ناظم ملک نور اللہ شبوزئی،ملک رحیم اتمانخیل،سردار اشرف خان کاکڑ،سردار فتح خان موسیٰ خیل،سردار نقیب اللہ زخپیل،سردار نور محمد جوگیزئی ،سردار رضاءشاہ کبزئی، ڈاکٹر محمد شاہ کدیزئی،ملک جعفر خان اتمانخیل،سابق ضلعی ناظم شمس حمزہ زائی،سابق صوبائی وزیر مولوی فیض اللہ،حافظ سراج الدین،قاری ممتاز احمد،سابق بلدیہ چیرمین نعمت جلال زئی،لورالائی کے سنئیر صحافی حاجی پیر محمد کاکڑ،ناصر قبیلے کے سربراہ خان جیلانی خان ناصر،سابق ناظم امان اللہ خان ناصر،جناب منصور خان ترکئی،سابق زکواة چیئرمین حاجی نافع زخپیل،منیجر عبدالقیوم ترین، ورناءبلوچ تحریک کے سربراہ احمد بلوچ اور دولت خان میرزئی کاکڑ نے شرکت کی جرگے میں شروعات کے طور پر خواتین کی تکریم و تحفظ زندگی کے بارے میں دو انتہائی اہم قوانین پر قبائل و علماءکرام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی،،جس کی مجموعی طور پر بھرپور تحسین پیش کرتے ہوئے معاونت کا بھرپور اظہار کیا گیاجرگے میں متفقہ طور پر غلط رسومات کے خلاف متفقہ طور پردو اھم قراردادیں منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
1۔ قبائلی تنازعات کو ختم کرنے کے لیے خواتین کو بطور تاوان جرمانہ کے طور پر دوسرے فریق کے حوالے کرنا
2۔ خواتین کو ،،آڑہ،، کرنا جس میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے اس کے گھر والوں کو بند کرتا ہے کہ فلاں لڑکی کا رشتہ اس سے کرایا جائے اور نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے
ان دو رسومات کے خلاف اس جرگے کے معتبرین نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ یہ دونوں رسومات قانون و شریعت اور ملکی قوانین و اخلاقیات کے منافی ہے ۔
معتبرین نے مزید فیصلہ کیا ہے کہ ہم کسی بھی ایسے جرگے جس میں قبائلی جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے خواتین کو بطور تاوان دوسرے فریق کے حوالے کیا جاتا ہو ،میں نہ شرکت کریں گے اور نہ ہی اس کی تائید کریں گے مزید یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آڑہ،، کرنے والے اور خواتین کو بطور تاوان دینے والے قانون کے مجرم ہیں اور ہم ان کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی سفارش اور حمایت کرتے ہیں۔اس جرگے میں لورالائی کے قبائلی مشران،علماءکرام اور سیاسی جماعتوں و سول سوسائٹی و میڈیا نمائندگان نے اس متفقہ قرارداد پر دستخط ثبت کئے۔
جرگے میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے تجویز پیش کی کہ عورت کی حقیقی تصویر کھلے آنکھوں اور مردانہ تصورات سے آزاد ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ عورت کو فطرت کے قوانین اور مالک ارض و سماءکی حکمت عملی نے انسان سازی کا بامقصد اور خوبصورت فیکٹری میں تبدیل کر دیا گیا ہے اس لئے اس طرح کے سیمینارز اور جرگوں کے موقع پر وقت اور حالات زمانہ کے ساتھ قوانین کے مآخذ و مراجع کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آغاز میں اسلامک اسکالرز سے متعلقہ موضوعات کے نکات کے سلسلے میں مائنڈ گرومنگ لیکچر کا انعقاد ممکن العمل بنایا جائے تاکہ لمحہ موجود کی بدلتی ہوئی دنیا کی ضروریات اور انسانی نفسیات و قوانین کی جانکاری و فہم بھی حاصل ہوسکیں۔مالک ارض و سما ءنے الہامی و آفاقی پالیسی متعارف کراتے ہوئے واضح فرمایا ہے کہ عورت نصف انسانیت اور نصف حیات ہے مرد کی رفیق اور گھر کی نگہبان ہے وہ مرد کی ہمدوش بھی ہے اور مرد کے ماتحت و دوست بھی ہے۔
عورت شبنم کے ساتھ شعلہ بھی ہے اور آہن کے ساتھ آبگینہ بھی ۔عورت وہ صنوبر ہے جو باغ میں آزاد بھی ہے اور پابہ گِل بھی، عورت کی فطری اور معتدل مقام و مرتبہ کا یہی وہ باریک نقطہ ہے جس کے سمجھنے میں بار بار غلطیاں ہوئیں ہیں اور ہزار بار حکیموں کے سمجھانے کے باوجود مسئلہ زن وہی کا وہیں رہا ۔
نامور مصری عالم شیخ محمد غزالی فرماتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کے سلسلے میں مسلمانوں کے اندر بے راہ روی پیدا ہوگئی ہے، غلط روایات پھیل گئی ہیں اور ایسے احادیث عام ہوگئی ہے جو یا تو بالکل موضوع اور گڑھی ہوئی ہے یا اسی کے قریب قریب ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عورتیں سخت ترین جہالت کے اندر ہیں وہ دین سے بھی ناواقف ہے اور دنیا سے بھی ناآشنا،۔ عورت کی تعلیم گناہ ہے اور اس کا مسجد جانا ممنوع ، نہ ملی مسائل اور مشکلات سے اس دلچسپی ہے اور نہ حال اور مستقبل کی تعمیر میں اس کا کوئی رول،،، عورت کی تحقیر ایک عام تصور و روش ہے اور اس کی حق تلفی معاشرے کا رواج بن چکا ہے ۔ ایک موقع پر ایک مشہور مقرر انتہائی غضب ناک اور المناک لہجے میں فرما رہے تھے کہ وہ ایام کس قدر مبارک تھے جن میں عورت صرف تین مرتبہ گھر سے نکلتی تھی۔شکم مادر سے دنیا میں،،، باپ کے گھر سے شوہر کے گھر اور شوہر کے گھر سے قبر کی طرف ۔میں نے کہا کہ اللہ وہ دن دوبارہ نہ لائیں اور تاریخ کے وہ منحوسس ایام دوبارہ نہ دیکھنے کو ملیں۔ وہ ایام جاہلیت کے ہو سکتے ہیں اسلام کے نہیں ۔ وہ ظالمانہ ریواج کی فتح ہو سکتی ہے اسلام کی راہ اعتدال نہیں ۔ تعلیم و تربیت اور تخلیقات کے میدان میں امت مسلمہ کا شمار تیسری دنیا میں ہوتا ہے امت کا ایک بڑا طبقہ انھی غلط رسومات کے شکنجے میں گرفتار ہے ۔ اس کو سن کر ایک شخص کہنے لگا کہ آپ فلاں مقرر کے مخلصانہ جذبات سے اختلاف کیوں کرتے ہیں ؟؟؟کیا صاحبزادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے ان کی تائید نہیں ہوتی ہے کہ عورت نہ کسی کو دیکھتی ہے اور نہ کوئی عورت کو دیکھتا ہے ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کی تائید فرمائی اور اپنے سینے سے لگاتے ہوئے فرمایا کہ۔ذریتہ بعضہھا من بعض، کیا یہ ہدایت نہیں تھی کہ اسلام نے عورت کے لیے آغوش مادر سے قبر تک گوشہ نشینی ضروری قرار دی ہے؟؟؟ میں نے کہا آپ غلط حدیث بیان کر رہے ہیں اس حدیث کا ذکر کسی معتبر کتاب میں نہیں بلکہ قرآن کریم ، متعدد صحیح احادیث، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی سیرت کا تواتر اس کے خلاف ہے حدیث گھڑنے والوں نے بہت سی ایسی احادیث گڑھی ہیں جن میں عورتوں پر جہالت تھوپی گئی ہے فریب خوردہ لوگوں نے انہیں احادیث کو صحیح سمجھا اور لڑکیوں کے لئے ہنرو تعلیم کے دروازے نہیں کھولے بلکہ ایسے ایسے احکام بنائے جن کے ذریعے عورتوں کا مسجد میں آنا ممنوع قرار دیا گیا اور جاہلانہ روش یہاں تک پہنچی کہ عورت کی دین و دنیا صرف حیوانی پہلو پر مرکوز ہوکر رہ گئی ۔جبکہ معروف مفکر اور جید عالم دین جناب ڈاکٹر علامہ محمد یوسف القرضاوی صاحب عبدالحیلم ابوشقہ کے معتبر ومستند کتاب ( عورت عہد رسالت میں،،قرآنی آیات اور بخاری و مسلم کی احادیث کا ایک جامع مطالعہ)کے مبسوط مقدمہ میں نہایت واضح طور پر جرآت مندانہ انداز میں فرماتے ہیں کہََ آج کے دور پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اپنی فکری زندگی کے اندر ایک المیہ نظر آتا ہے اور اھل عقل و دانش جس کا رونا رو رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اپنے بہت سے مسائل و معاملات بلکہ بیشتر معاملات کے اندر اس معتدلانہ موقف سے دور ہو جاتے ہیں جسے قرآن نے صراط مستقیم کا نام دیا ہے۔ عام طور پرغلو و کوتاہی یا افراط و تفریط کے شکار ہو جاتے ہیں حالانکہ اللہ کا یہ قول ہمارے سامنے ہوتا ہے۔
( اور اس طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا)
اور یہ حکیمانہ قول بھی ہمارے پیش نظر ہوتا ہے کہ ( معتدل چیز سب سے بہتر ہوا کرتی ہے) اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول بھی ہم نقل کرتے ہیں کہ ( تم درمیانہ روش اختیار کرو غلو کرنے والا تمہاری جانب لوٹ کر آئے گا اور کوتاہ تم تک رسائی حاصل کرے گا)اسلامی معاشرے میں عورت کا مسئلہ ایک نمایاں مثال ہے جس میں غلو اور کوتاہی افراط و تفریط دونوں پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں کوتاہ نظر اور تفریط کے شکار لوگ عورت کو حقارت اور تکبر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ عورت اس کے نزدیک شیطان کا پھندا،۔ابلیس کا جال اور گمراہی و غلط روی کا ذریعہ ہے۔ اس کا دین اور اس کی عقل دونوں ناقص ہے ،،۔ عورت ایک ناقص اہلیت رکھنے والی مخلوق ہے ،۔ وہ مرد کی بندی اور خادمہ ہے مرد اپنی لزت لطف کے لئے اس سے شادی کرتا ہے ، اپنا مال دیکھ کر اس سے لطف اندوزی کا مالک ہو جاتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے طلاق دے دیتا ہے عورت نہ تو اپنی طرف سے دفاع کا حق رکھتی ہے اورنہ کسی سامان یا عوض کی مستحق ھوتی بلکہ بعض قوموں و لوگوں نے اسے جوتے کی مانند بتایا ہے جسے مرد جب چاہے پہن لے اور جب چاہیں اتار کر پھینک دے،،،اگر عورت کسی مرد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جاتی ہے اور مرد اس کے لئے ناقابل پسند ہو جاتا ہے ،،مرد کی جانب سے اسے نفرت اور بعض ہو جاتا ہے تو وہ صرف گھٹ گھٹ کر صبر ہی کر سکتی ہے اور مجبوراً زندگی کے کڑوے گھونٹ پیتی رہتی ہے تاآنکہ مرد خود اسے طلاق دینے یا اس کے ساتھ خلع کرنے پر راضی ہوجائیں ورنہ مرد کی غلامی کا جواءوہ اپنی گردن سے اتار کر نہیں پھینک سکتی ہے،،
اسی قماش کے کچھ لوگ اسلام سے قبل والے دور جاہلیت کی پیروی کرتے ہوئے میراث کے حق سے اپنی بیٹیوں کو محروم رکھتے ہیں، ان کے ترکہ کے تمام تر حصے نرینہ اولاد ہی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں لڑکیوں کا ان میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ان لوگوں نے عورت کو گھر کی چہار دیواری میں قید کر دیا،نہ وہ علم کے لیے نکل سکتی ہے اور نہ کسی اور کام کے لئے ،، وہ معاشرے کو نفع پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتی۔بلکہ بعض نے تو نیک و صالح عورت کی تعریف ہی یوں کی ہے کہ وہ زندگی میں صرف دو مرتبہ باہر نکلتی ہوں ایک مرتبہ اپنے والد کے گھر سے شوہر کے گھر کی طرف اور دوسری مرتبہ شوہر کے گھر سے آخری آرام گاہ قبر کی طرف،،،علم اور دین کا فہم حاصل کرنے کے لیے بھی عورت کا گھر سے نکلنا حرام قرار دے دیا اور کہا کہ والد اور شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت کو تعلیم دے اور دین کا فہم سکھائیں اس طرح انہوں نے عورت کو علم کے نور سے محروم کرکے جہالت کی تاریکی میں بھٹکتے رہنے پر مجبور کر دیا ، نہ اسے والد نے تعلیم دی اور نہ شوہر نے،، کیونکہ والد اور شوہر تو خود ہی محتاج علم و دانش تھے،،محتاج دوسرے کو کیا دے سکتا تھا وہ خود بھی جاھل رہے اور عورت بھی جاھل رہی ۔لوگوں نے عورت کو نماز یا وعظ و نصیحت سننے کی غرض سے مسجد جانے سے بھی روک دیا حالانکہ یہ معلوم ہےکہ کہ عہد نبوی میں خواتین عشاء اور فجر کی نمازوں میں بھی مسجد میں آکر جماعت میں شریک ہوتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا تھا کہ (اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں آنے سے مت روکو) مسلم شریف
عجیب بات ہے کہ اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کو ماننے والی خواتین بھی جس حق کو استعمال کرتی ہیں کچھ خواتین اس حق سے بھی محروم ہے یہودی عورت اپنی عبادت گاہ میں جاتی ہے،
عیسائی عورت اپنی عبادت گاہ کلیسا میں جاتی ہے بدھسٹ اور ہندو عورت اپنی عبادت گاہوں اور مندر میں جاتی ہے لیکن تنھائ مسلم خاتون مسجد میں جانے سے محروم ہے،،،لوگوں نے عورت کو اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ زندگی کے جائز کاموں میں بھی شریک ہونے سے روک دیا جس میں وہ شرکت کر سکتی تھی جیسے کہ بعض صحابیات مثلا حضرت اسمائ ذات النطاقین کا واقعہ اپنے شوہر حضرت زبیر بن عوام رض کے ساتھ منقول ہے اور اس سے بھی زیادہ نمایاں مثال قرآن کریم نے سورتہ القصص کے اندر حضرت شعیب علیہ السلام کی دو صاحبزادیوں کے متعلق پیش کی ہے جنہوں نے بکریاں چرائیں ،انھیں پانی پلایا، حضرت موسی علیہ السلام سے گفتگو کی، حضرت موسی نے ان سے گفتگو کی اور ان میں سے ایک نے اپنے والد سے پوری بے باکی اور وضاحت سے کہا کہ(اے ابا جان ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ اچھا نوکر وہی ہے جو قوت دار ہو ،امانت دار ہو) آیت نمبر 26 ۔ اور اپنے ان جامع الفاظ کے ذریعے کام کرنے والے مردوں کے انتخاب کی بنیادیں طے کردیں۔
عورت کو گھر کے اندر قید کر دینے کے لیے لوگوں نے غیر واضح نصوص و ھدایات کا سہارا لیا اور واضح ترین ہدایات و احکام پس پشت ڈال گئے۔ چنانچہ یہ لوگ سورہ احزاب کی 32 اور 33 نمبر آیات سے استدلال کرتے ہیں جو امہات المومنین کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔انہوں نے عورت کو اپنی زندگی کا رفیق اور شریک منتخب کرنے بلکہ کم از کم ولی اور ذمہ دار کی پیشکش کے وقت اپنی موافقت یا انکار کا اظہار کرنے کے حق سے بھی بیشتر اوقات محروم کر دیا چنانچہ ایسے بھی والدین ہیں جو اپنی بیٹی کی شادی بغیر اس کی رضامندی بلکہ اس کے مشورے اور اس کی رائے معلوم کئے بغیر کر ڈالتے ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ شافعی، مالکی اور جمہوریہ حنابلہ نے بھی اسی مسلک کو ایسے دلائل کی بنیاد پر اختیار کیا جو بحث و مباحثے کے بعد کمزور ثابت ہوتے ہیں اور مخالف دلائل کے مقابلے میں مر جوح قرار پاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد امام ابن القیم رحمت اللہ علیہ جیسے لوگوں نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا۔عورت کے حقوق کی پامالی اور اس کی شان سے فروتر مقام اسے عطا کرنے کی غرض سے صحیح احادیث کی غلط تشریح کی گئی اور دوسرے سیاق میں ان کا استعمال کیا گیا ۔ مثلا عورت سے متعلق اپنے نظریے کی تائید میں کس قدر شدومد کے ساتھ وہ احادیث پیش کی گئی جن کی نہ کوئی اصل ہے اور نہ ہی سند، بالکل بے سروپا اور ضعیف احادیث یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب غلط منسوب کردہ گھڑی ہوئیں حدیثیں،،،غلو اور شدت پسندوں نے عورت کی زندگی کو ایسا زندان بنا دیا جہاں روشنی کی کوئی کرن بھی نہیں پہنچ سکتی عورت کا گھر سے نکلنا حرام ہے اس کا مسجد جانا ناجائز ہے وہ آداب حیاءملحوظ رکھتے ہوئے بھی مردوں سے گفتگو نہیں کر سکتی ہے۔
اسکا چہرہ اور اس کی ہتھیلیاں بھی قابل ستر ہے،، اس کی آواز اور اس کی گفتگو بھی قابل پوشیدگی ہے ۔حتیٰ کہ حج اور عمرہ کے موقع پر عورتیں جو سفید کپڑے پہنتی ہیں اور مصر اور کئی ملکوں میں عرصے سے یہ رواج چلا آرہا ہے ، کچھ لوگوں نے اس پر بھی اعتراض کیا اور کہنے لگے کہ سفید کپڑوں سے مردوں کی مشابہت ہوتی ہے ۔ حالانکہ شریعت اسلامیہ نے مردوں کی بنسبت عورتوں کے زیب و زینت میں کافی وسعت رکھی ہے ۔ مردوں پر سونے کے سامان اور ریشمی لباس کا استعمال حرام قرار دیا ہے جبکہ عورتوں کو ان چیزوں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ایک طرف تو یہ لوگ ہیں جو عورتوں کی حق تلفی میں تفریط کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو افراط کی انتہا پر ہیں اور عورتوں کے معاملات میں اللّٰہ کے حدود،فطرت کے حدود،فضلیت و شرافت کے حدود سبھوں سے تجاوز کر گئے ہیں۔پہلی قسم کے لوگ اگر مشرقی رسوم و رواج کے خوگر ہوچکے ہیں،تو دوسری قسم کے لوگ مغرب کے نووارد آداب و اطوار کے اسیر ہیں۔دوسری قسم کے لوگ مرد وعورت کے درمیان امتیازات کو مٹا دینا چاہتے ہیں،ان کے نزدیک عورت بھی ایک انسان ہے اور مرد بھی ایک انسان،،،دونوں ایک دوسرے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں لہذا دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
وہ یہ بھول گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کی فطرت میں فرق رکھا ہے،دونوں کی جسمانی ساخت جدا گانہ ہے اور اس فرق میں بہت بڑی حکمت کارفرما ہے۔
دونوں کے اپنے اپنے مزاج و ساخت اور اپنی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے علاحدہ علاحدہ ذمہ داریاں ہیں۔عورت کی مامتا اپنی تمام تر خصوصیات،خوبیوں اور گراں باریوں کے ساتھ اس کی زندگی کا محور و مقصد گھر ہے اور اسی مقصد نے مردوں کی بنسبت عورتوں کی وابستگی گھروں سے زیادہ رکھی ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ غلو پسند مغرب نوازوں کی بیشتر انتہا پسندی،غلو پسند مشرق نوازوں کی انتہا پسندی کا ردعمل ہوا کرتی ہے،انتہا پسندی اور غلو سے،انتہا پسندی اور غلو ہی جنم لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ھمیں نہ مغرب نوازی کا حکم دیا اور نہ ہی مشرق نوازی کا حکم دیا ہے ۔
اس کا فرمان ہمیں نہ اسیر قدیم بناتا ہے اور نہ گرفتار جدید۔وہ تو ہماری تمام خواہشات کو صرف پابند شریعت محمدی اور خوگر دین حق بناتا ہے ۔
افراط و تفریط کے درمیان کی راہ ہی اسلام کا جادہ اعتدال ہے اور مسافران حق اسی کے رہرو ہیں ،،،(بحوالہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی) جرگے میں فاضل مقررین نے ان قبیح رسوم کی اخلاقی و روحانی نقصانات اور شرعی و قانونی سقم و خرافات سے تفصیلی بحث کے دوران آگاہ کیا گیا،میں نے جرگے میں خطاب کے موقع پر دوسری تجویز پیش کر تے ہوئے کہا کہ فکر و نظر کی تبدیلی اور مائنڈ سیٹ کی تبدیلی واقع ھونے سے ہی معاشرے تبدیلی قبول کیا کرتے ہیں اس لئے بنیادی ضروریات میں بلا امتیاز سوسائٹی کے تمام خواتین اور بچیوں کو بنیادی تعلیم،ھنرو اسکیل اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ اور اپنی حفاظت و حیاءداری کے لئے مواقع فراہم کرنے والے اقدامات معاشرے اور ریاست و حکومت کی اولین ترجیح و ذمہ داری ھونا چاھئے۔
تیسری تجویز پیش کر تے ہوئے کہا گیا کہ ٹیکنالوجی اور نئے علمی و سائنسی اختراعات و ایجادات نے روایتی مذہبی اور قبائلی معاشروں میں طوفان برپا کیا گیا ہے،اس اھم ترین پروگرام اور تبدیلی واقع ھونے میں بطور والدین اور سوسائٹی ہمارا پیش رفت اور شرکت ناقابل یقین حد تک بہت کم رہا ہیں،،،جس کے باعث اب نسلوں،اولاد اور معاشروں میں تبدیلی واقع ھونے کا فطری و علمی اختیار بحثیت مجموعی ریاستی و معاشرتی طور پر ھار چکے ہیں جس کے باعث ھمارے معاشرتی و نفسیاتی روئیے بار بار جل مر کر ھمیں روحانی اساس کی بنیاد پر تنگ کرتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں اداروں کی قوت عمل اور معاشروں کی مجموعی اخلاقی و سماجی اور ثقافتی و تاریخی ارتقاءکا ادراک کرتے ہوئے نوجوانوں خاص کر بچیوں اور خواتین و طالبات کے لئے ازسرنو آسانیاں پیدا کرنے چاہئیں تاکہ ہمارے معاشرے میں عورت کی زندگی محفوظ و مامون ہوسکیں۔تقریب کے اختتام پر صدارتی خطاب میں سردار ایاز خان موسیٰ خیل نے کہا کہ ہمیں اپنی اجتماعی ذہانت کو بروئے کار لانا چاھئے تاکہ قانون اپنے اسپرٹ کے ساتھ بحال ہو کر معاشرے کے لئے رحمت و سکون کا ذریعہ بن سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں