مون سون بارشیں اور بولان کی صورتحال

عبدالحئی گولہ

رواں ہفتے جہاں پورے ملک میں تقریبا شدید بارشوں کے امکانات کو ظاہر کیا گیا اور ہفتے کی شام سے زبردست مون سون موسلادھار بارشوں کا سلسلہ بھی جاری ہوگیا وہاں پہ ضلع کچھی میں بھی باران رحمت خوب برس پڑی اس کے ساتھ ساتھ مسلسل اور طویل بارشوں کے سلسلے نے ضلع خضدار قلات سبی سمیت ڈھاڈر میں بھی تباہی مچا دی ہفتے کی صبح سیلابی ریلی اور طغیانی بولان کے دشوار گزار و سنگسار وادیوں اور پہاڑوں کے سینے کو چیرتا ہوا ضلع کچھی کے دیہاتوں اور شہروں میں گھس آیاس سیلابی ریلے کا پہلا ہدف کرتہ گاﺅں رہا جہاں کچھ دیہات زیر آب آگئے اور محکمہ ایریگیشن کے مطابق 8000کیوسک کا پانی بے رحم و بے دریغ دہیاتوں میں تباہی مچاتا رہا جس میں کھٹن کے 7 دیہات بالاناڑی کے تمام علاقے نغاری چاکر ماڑی دربی سمیت دربی پولیس چوکی کو بھی سیلابی ریلی نے منہدم کر دیا اب تک کے اطلاعات کے مطابق ضلع کچھی میں تقریبا تیس گاﺅں اور لگ بھگ پانچ ہزار لوگ اس سیلاب سے متاثر ہیں یاد رہے 1986 .2007.اور 2010 کے بعد یہ چوتھی بار ہے کہ سیلابی ریلے نے ان علاقوں کو تباہ و برباد کردیا اب تک کی اطلاعات کے مطابق سات جانی نقصانات اور سیکڑوں مال مویشی اس سیلاب کی نذر ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایف سی پولیس اور لیویز کے جوانوں نے فوری ریسکیو کیا اور بوڑھے بچوں اور عورتوں کو محفوظ ٹھکانوں پر منتقل کیا ہے اس ضمن میں ضلع کچھی کے سابق ڈسٹرکٹ چیئرمین میر سردار خان رند نے پی ڈی ایم اے اور وزیر اعلٰی بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان مزید سیلابی تباہی سے بچنے کے لئے متاثرین کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں گزشتہ روز میر سردار خان رند نے اس ضمن میں وزیر پی ڈی ایم اے میر ضیائلانگوکو بھی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے متاثرین امدادی سامان پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے موجودہ ہنگامی صورتحال میں ڈپٹی کمشنر کچھی مراد احمد کاسی اسسٹنٹ کمشنر ڈھاڈر حبیب ناصر اور ڈی پی او کچھی نے خود منہدم بی بی نانی پل جس کے ٹوٹنے سے سندھ بلوچستان قومی شاہراہ جوکہ بند ہوگئی اور ہزاروں گاڑیاں پھنس گئی تھیں کوفوری عاضی طور پر پل کی تعمیر کرکے ٹریفک کو بحال کیا اس کے علاوہ محکمہ صحت کی جانب سے بھی ہیلتھ ایمرجنسی نافذہے اور ڈاکٹرز اور طبی عملہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہمہ وقت الرٹ ہے عوامی سیاسی اور سماجی حلقوں نے حکومت بوچستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کی امداد و بحالی کی جاری سرگرمیوں کومزید تیز کیا جائے اور متاثرہ سیلاب زدگان کے لئے شیلٹر کا بندوبست کریں اس کارخیر میں تمام مخیر حضرات کو بھی بڑھ چڑھ کرحکومت اور انتظامیہ کا ہاتھ بٹانا چاہئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں