آزادی کا دن اور اس کے تقاضے

شیخ محمد انور

پاکستان کے طو ل و عرض آج جشن آزادی مناےا جا رہا ہے، طورخم سے لےکر چمن تک، چمن سے تافتان تک، تافتان سے کراچی اور کراچی سے چک امرو تک پاکستانی قوم اس حوالے سے تقرےبات منعقد کرے گی اور ہر شخص اپنے شعور کے مطابق آج کا دن منائے گا۔ پورے پاکستان میں یومِ آزادی بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے اس روز ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ گلی کوچوں، بازاروں اور عمارات کو خوبصورت قمقموں سے آراستہ کیا جاتا ہے۔ سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہےں۔ مساجد میں ملک و قوم کی خوشحالی اور ترقی کےلئے دُعائیں ہوتی ہےں۔ سکولوں اور کالجوں میں جلسے ہوتے ہےں جن میں پاکستان کے قیام پر روشنی ڈالی جاتی ہے جبکہ بڑے شہروں میں فوجی پریڈ بھی ہوتی ہے۔ چند فےصد بگڑے ہوئے بچے ہنگامہ ، ہاہو مچانا جشن آزادی کی روح قرار دیتے ہےں، ملک کے ہر کونے میں سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہےں اور اس دن ہر انسان اپنے گھر، دفاتر، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سبز ہلالی پرچم لہرانا اپنا فرض سمجھتا ہے اور یوں یہ دن خوشیاں بکھےرتا ہوا گزر جاتا ہے۔ 14 اگست 1947ءکی تارےخ برصغےر پاک و ہند کی ناقابل فراموش تارےخ ہے۔ اس روز اسلامےان ہند نے ثابت کردےا کہ وہ کسی اےسی متحدہ قومےت کو تسلےم کرنے کےلئے تےار نہےں جس مےں ان کا اسلامی تشخص دھندلا کر رہ جائے۔ قوم آج 73 واں ےوم آزادی منا رہی ہے۔ آزادی سے بڑی نعمت دنےا مےں کوئی نہےں ہوسکتی۔ اےک آزاد قوم ہونے کی حےثےت سے ہمارا سرفخر سے بلند ہونا چاہےے اور ہمارے دل مسرت سے معمور ہونے چاہےےں۔ آزادی کی قدر و قےمت ان اقوام سے پوچھنی چاہےے جو اس نعمت سے محروم ہےں لےکن جب ہم اپنے حال پر نظر ڈالتے ہےں تو اےک المناک نقشہ سامنے آتا ہے کےونکہ پاکستان جن مقاصد کےلئے بناےا گےا تھا اور بانےان پاکستان نے اپنی زندگی جس ارفع و اعلیٰ مشن کےلئے وقف کر رکھی تھی، ہم اس کو ےکسر فراموش کرچکے ہےں۔ آزادی کو صرف وہی لوگ برقرار رکھ سکتے ہےں جو انفرادی اور اجتماعی طور پر اےک دوسرے کے حقوق و فرائض کی بجا آوری سے کما حقہ بہرہ ور ہوں۔ آزادی اےک عظےم ذمہ داری، مسلسل جدوجہد ان تھک محنت اور اےک ذہنی، فکری اور اخلاقی انقلاب کا نام ہے۔ آج نئی نسل کےا جانے آزادی کسے کہتے ہےں اور کےسے حاصل کی گئی ہے۔ ےہ لوگ تو ائےرکنڈےشنڈ بنگلوں مےں رہتے ہےں اور ائےرکنڈےشنڈ گاڑےوں مےں سفر کرتے ہےں انہےں کیا معلوم کہ آج سے 73 برس پہلے سڑکوں کا کےا حال تھا، ذرائع آمدورفت کےا تھے، ہمارے ملک مےں تو شہروں سے ملحق دو تےن مےل کے فاصلے پر جو دےہات آباد ہےں وہاں تو آج کے اس آئی ٹی کے دور مےں بھی لوگ بسوں کی چھتوں پر بےٹھ کر سفر کرنے پر مجبور ہےں۔ پاکستان آج الحمدللہ اےٹمی قوت ہے اور دنےا کی بہترےن فوج پاکستان کے پاس موجود ہے۔ لاکھوں کی تعداد مےں نوجوانوں کی اےسی تعداد ہمارے پاس موجود ہے جو کہ شہادت کو اپنا نصب العےن سمجھتی ہے، بس صرف اےک آواز لگنے کی دےر ہے تو پاکستان کا نوجوان پاک فوج سے پہلے بارڈروں پر کھڑا نظر آئے گا مگر افسوس کہ آج کشمےر مےں ہماری ماﺅں اور بہنوں کی عصمت دری جاری ہے، چھ ماہ سے زےادہ عرصہ ہوچکا ہے کہ وہاں پر لاک ڈاﺅن ہے لےکن ہم آج اپنے فرض کو بھول چکے ہےں کہ ہم نے اپنے کشمےری بھائےوں کو بھی ان بھارتی جنتہ سے آزادی دلوانی ہے۔ وقت آ پہنچا ہے کہ جس طرح چائنہ نے لداخ پر اپنے فوجیوں کو لگاےا ہے پاکستان کو بھی کچھ جارحانہ انداز اپنانا چاہےے، آئے روز موصاد اور راءکی اےما پر پاکستان کے مختلف شہروں مےں پاک فوج کے جوان شہادتےں دے رہے ہےں اور پاکستان کی قوم اپنے جواں سالہ بھائی اور بےٹوں کی لاشےں اُٹھا اُٹھا کر تھک چکے ہےں۔ مےرے نزدےک تو اب بھارتی جنتہ کو خبردار کرنا چاہےے کہ ےا تو اپنی حرکتوں سے باز آجائے ےا پھر ہندوستان کا اےک علاج، الجہاد، الجہاد۔مےرے والد محترم جو کہ 1917ءمےں پےدا ہوئے اور جب پاکستان بنا تو والد محترم بےنک آف انڈےا موجودہ اسٹےٹ بےنک آف پاکستان مےں ملازم تھے۔ اُنہوں نے پاکستان کو بھرپور جوانی مےں بنتے اور ٹوٹتے ہوئے دےکھا۔ والد صاحب بتاتے ہےں کہ جب مےں اپنے عزےزواقارب کو انڈےا سے لے کر پاکستان کی طرف آ رہا تھا تو مےں نے اپنی آنکھوں سے کئی ماﺅں کو اپنی جواں سالہ بےٹےوں کو کنوﺅں مےں پھےنکتے ہوئے دےکھا، مےں نے بچوں کے تڑپتے لاشے دےکھے، مےں نے نوجوانوں کی گردنوں کو کٹتے دےکھا، جب پاکستان بنا اور ادھر سے مسلمان آبادی کو اپنے گھر بار چھوڑ کر فوراً نکل جانے کا الارم دےا تو مےں نے دےکھا کہ ہر طرف بھگدڑ مچی ہوئی تھی، مکانوں، کھلےانوں مےں آگ لگی ہوئی تھی، گولےوں کی تڑتڑاہٹ، عوام کی چےخ و پکار، لوگوں کی دھکم پےل کا رےلا، واوےلا، وہ پرانے لکڑی کے پہےوں والے گڈے، بےل گاڑےاں وغےرہ اےک جم غفےر قافلہ بے سروسامانی کے عالم مےں رواں دواں ہے۔ ےہ قافلہ اےک ڈوگرا فوج کی نگرانی مےں تھا۔ دو مےل کی مسافت کے بعد اےک چھوٹے سے گاﺅں بہرام پہنچ گئے وہاں رات کےلئے پڑاﺅ ڈالنے کا حکم دےا گےا، کھلے آسمان تلے درختوں کے نےچے زمےن پر اےسے ہی اُٹھ بےٹھ کر رات گزاری۔ اسی ڈوگرا فوج کی طرف سے کھانے پےنے کے لےے راشن دےا جاتا تھا، جس سے بڑی مشکل سے بھاگ دوڑ کرکے چند روٹےاں تندوری اور چنے کی دال مےسر آتی تھی، کبھی کبھار دو دو مٹھی آٹا گندم اپنی جھولےوں مےں بھرلاتے اور وہےں کسی تندور ےا چولہے پر سے روٹی لگوالی جاتی تھی۔ انتہائی کسمپرسی کی حالت مےں اےسے ہی کسی دوسری جگہ کےمپ منتقل کردےا جاتا تھا۔ جب دوسری طرف سے جھتے حملہ آور ہوئے تو اندھا دھند برچھےوں اور تلواروں سے دوبدو معرکہ آرائی شروع ہوگئی، اس دوران جب فوج کی طرف سے گولےوں کی بوچھاڑ ہوئی تو لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور نفسا نفسی کے عالم مےں ہر اےک اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوگےا، اسی عالم مےں کوئی ماں اپنے بچے سے جداہوگئی، باپ بےٹے کو کھو بےٹھا، ہم لوگوں نے چار چار گھنٹے کھےتوں مےں فصلوں کی اوٹ میں مٹی کے ٹےلوں مےں گزارے اور بہت مشکل سے لاہور پہنچے۔ ہم نے وہ دور بہت قرےب سے دےکھا ہے کہ جب گھروں مےں ماچس کی ڈبےہ بھی نہےں ہوتی تھی۔ کسی دوسرے کے گھر سے اوپلے پر آگ کی چنگاری رکھ کر لاتے تھے اور پھونکےں مار مار کر اپنے گھر کے چولہے مےں آگ جلاتے تھے۔ تقسےم ہند کی آزادی کے وقت ہر گھر مےں تو پےنے کے پانی کےلئے نلکہ بھی نہےں ہوتا تھا۔ مےں نے وہ دور بہت قرےب سے دےکھا ہے جب غرےبی انتہاءکو تھی مگر ادب آداب، کھلے ہوئے چہرے، حسن، رونق، چمک دمک، احترام آدمےت، محبت و شفقت، انسانےت اوروضع داری بھی انتہاءکو تھی، مکان کچے تھے مگر اےمان پکے تھے۔ ےہ وہ دور تھا جب اےک طرف غرےب لوگ تھے تو دوسری طرف امےر لوگ تھے جن کا رہن سہن الگ تھلگ ہوتا تھا مگر وہ بھی درد دل رکھتے تھے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود تجزےہ کرےں کہ ہم کہاں کھڑے ہےں اور کس طرف جا رہے ہےں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں