پروفیسر ڈاکٹر سہیل عزیزوطن،امراض قلب کے شعبے کا درخشندہ ستارہ

مشتاق احمد خان

پروفیسر ڈاکٹر سہیل عزیزوطن عزیز پاکستان میں امراض قلب کے حوالے سے طب کے شعبے کا ایک درخشندہ ستارہ ہیں آپ نے کرنل محمد عزیز خان کے گھر 1959ء میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم سر سید کالج راوالپنڈی سے حاصل کی اور راوالپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کا امتحان 1983 ء میں پاس کیا۔ آپ نے پاک فوج کی میڈیکل کور میں جنوری 1985ء میں بطور کیپٹن ڈاکٹر کمیشن حاصل کیا۔ اس دوران پاک فوج کی کئی یونٹوں میں فرائض سر انجام دیئے۔ آپ ملک کے مایہ ناز کارڈیالوجسٹ ہیں۔ آپ نے ایف سی پی ایس (میڈیسن) کا امتحان 1990ء میں کالج آف فیزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے پاس کیا اور 1994ء میں ایم آر سی پی کی ڈگری رائل کالج آف فیزیشنز اینڈ سرجنز ایڈن براہ (انگلینڈ) اور ایم فل (کارڈیالوجی) کی ڈگری 1997ءمیں یونیورسٹی آف لندن (برطانیہ) سے حاصل کی۔آپ نے ایف ایس سی اے (آئی) کی ڈگری 2007ء میں کورونری انجوگرافی اینڈ انٹروینشن میں امریکہ سے حاصل کی۔آپ ملک پاکستان کے واحد کارڈیالوجسٹ ہیں جن کو ایف آر سی پی (ای) کی سند 2018ء میں صدر رائل کالج آف فیزیشنز اینڈن برگ (برطانیہ) نے پاکستان میں عطا کی۔آپ قومی و عسکری ادارہ امراض قلب کے پہلے کارڈیالوجسٹ ہیں جنہوں نے دل کی بیماریوں کا جدید علاج” TAVI”ا ور “EVAR” پاکستان میں کیا۔ آپ نے اے ایف آئی سی میں ریڈیل انجوگرافی کو متعارف کرایا۔آپ نے AFIC میں سی ٹی او (CTO) کا علاج کامیابی سے کیا اور تمام کارڈیالوجسٹس کو بھی اسکی تربیت دی۔پاکستان میں دل کی شریانوں کے علاج یعنی انجوپلاسٹی کی ابتداء 1985ء میں اے ایف سی میں ہوئی تھی۔ اور جیسے جیسے اس طریقہ علاج نے ترقی کی جنرل سہیل عزیز اس میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے،چاہے وہ سادہ بیلون انجوپلاسٹی ہو یا شریانوں کے اندر گھل جانے والے اسٹنٹ ہوں جنرل سہیل عزیز ان سب میں مہارت حاصل کرتے چلے گئے۔اور اے ایف آئی سی کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے اداروں کے ہم پلہ لا کھڑا کیا۔ یقینا اس میں باقی ڈاکٹرز بھی شامل تھے مگر جنرل صاحب کا کردار قطبی ستارے جیسا ہے۔ جب پاکستان میں ریڈیل شریان سے انجوگرافی کی ابتداء ہوئی تو جنرل سہیل عزیز ہی تھے جنہوں نے اس طریقہ علاج کو اے ایف آئی سی میں متعارف کروایا اسی طرح جب دنیا بھر میں اچانک دورہ دل کے فوری علاج کا طریقہ کار بذریعہ انجوپلاسٹی وضع ہوا تو پاکستان میں اسکو شروع کروانے کا سہرا بھی جنرل سہیل عزیز کے سر ہی جاتا ہے۔اسی طرح پیچیدہ انجوپلاسٹی کو اے ایف آئی سی میں متعارف کروانے اور منتقل کرنے میں جنرل صاحب کی گرانقدر کاوشوں کا بڑا حصہ ہے۔مرزا غالب نے کہا تھا کہ
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
اگر آج مرزا غالب زندہ ہوتے تو بجا طور پر انکو اپنے سوال کا جواب بھی مل جاتا اور انکو جنرل صاحب سے دوا بھی مل جاتی۔ جنرل صاحب اپنے پیشہ میں ایسی مہارت رکھتے ہیں کہ لوگوں کے دلوں کا علاج کرتے کرتے انکے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ دلوں پر راج بھی کرتے ہیں۔۔۔ آپ ایک دلکش شخصیت کے مالک ڈاکٹر ہیںآپ کی شخصیت کا جو پہلو زیادہ نمایاں ہے وہ یہ ہے کہ آپ انتہائی خوش اخلاق طبعیت کے مالک ہے آپکی سب سے بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ ہمہ وقت خوب سے خوب تر کی جستجو میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اپنے پیشے میں بے تاب رہنا مانند سیماب اور اپنے ہم عصروں اور ماتحتوں سے بھی یہی توقع رکھنا آپ کا طرہ امتیاز ہے۔آپکی ہمہ گیر شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کے نزدیک کوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔آپ کہتے ہیں ہر چیز ممکن ہے لیکن ناممکن کو ممکن بنانے میں محنت زیادہ لگتی ہے۔آپ پاکستان کارڈیک سوسائٹی کے نامزد صدر بھی ہی۔ گزشتہ سال آپ کو پاکستان کارڈیک سوسائٹی کی طرف سے لائف ٹائم اچیومننٹ ایوارڈ سے نوازہ گیا۔آپکے بے شمار مقالاجات ملکی اور غیر ملکی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔آپکو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے قومی و عسکری ادارہ امراض قلب راولپنڈی جیسے پر وقار ادارے کی دو سال سے زیادہ عرصہ کمان کی۔ آپ ایک بہترین استاد بھی ہیں آپ نے کارڈیالوجی کے شعبہ میں سینکڑوں ڈاکٹروں کو دل کی بیماریوں کے علاج کی تعلیم دی۔ آج آپکے شاگرد پورے ملک میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور دل کی بیماریوں میں مبتلا دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں