سینٹ لوئیس چڑیا گھر: جس کی گزرگاہوں میں کھو جانے کی تمنا ہو

جانوروں سے محبت ہونے کے باوجود پاکستانی چڑیا گھروں کی سیر کرنا مجھے ہرگز پسند نہیں جس کی وجہ وہاں رکھے گئے جانوروں کی حالت زار ہے، لیکن بیرون ملک سفر کے دوران میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جس شہر میں بھی جاؤں وہاں کے چڑیا گھر ضرور جاؤں اور وہاں کے مقامی جانور اور انہیں چڑیا گھر میں رکھے جانے کا انداز دیکھوں۔

سنہ 2019 میں ایک فیلو شپ کے سلسلے میں امریکا جانا ہوا تو میں نے پہلے ہی گوگل پر سرچ کرلیا کہ جن شہروں میں ہم جائیں گے وہاں کے چڑیا گھروں میں کون کون سے جانور موجود ہیں۔ ایک چڑیا گھر میں دنیا کے نایاب ترین جاندار پینگوئن کی موجودگی نے مجھے پرجوش کردیا اور میں نے طے کرلیا کہ زندگی کبھی کسی برفانی خطے میں جا کر پینگوئن سے ملاقات کا موقع تو شاید نہ دے، لہٰذا امریکا کے چڑیا گھر میں ہی اسے دیکھ لیا جائے

پاکستانی صحافیوں کے لیے منعقدہ اس فیلو شپ میں مجھ سمیت ملک بھر سے تقریباً 10 صحافیوں کو منتخب کیا گیا تھا۔ ہمارے دورے میں واشنگٹن ڈی سی سمیت امریکا کے 3 شہر شامل تھے۔ نومبر کی ایک صبح جب ہم ریاست میزوری کے شہر سینٹ لوئیس میں اترے تو درجہ حرارت منفی 1 تک گر چکا تھا۔ اس سے قبل ہم ریاست اوکلوہاما میں تھے جہاں درمیان کے تین دن موسلا دھار بارش رہی اور شروع اور آخر کے 2 دن میں تیز دھوپ نے ہمیں جھلسا دیا تھا۔

اس کے بعد سینٹ لوئیس کا منفی ڈگری سینٹی گریڈ ہم سب کو ٹھٹھرا دینے کے لیے کافی تھا۔ سردی اس قدر شدید تھی کہ پنجاب اور بالائی علاقوں کی سخت سردیوں کے عادی صحافی دوست بھی ٹھٹھر رہے تھے، ہم کراچی والوں کا تو حال ہی برا تھا جنہیں سردیاں کم ہی نصیب ہوتی تھیں۔

ایک روز جب ہمارے طے شدہ پروگرام میں سینٹ لوئیس کے تاریخی گیٹ وے آرچ اور بوٹینکل گارڈن کی سیر شامل تھی، منتظمین نے ہماری ٹھٹھرتی حالت پر ترس کھاتے ہوئے گارڈن کا دورہ منسوخ کردیا اور ہمیں واپس ہوٹل جا کر آرام کرنے کا مشورہ دیا

سینٹ لوئیس کا تاریخی گیٹ وے آرچ

آرام کس کافر کو کرنا تھا۔ ہوٹل کے قریب ایک ریستوران میں لنچ کرتے ہوئے سب نے پروگرام بنایا کہ وقت مل گیا ہے تو وال مارٹ جا کر تحفے تحائف کی ادھوری شاپنگ مکمل کی جائے۔ میں نے صاف انکار کردیا کہ ایسے موسم میں مجھے ہوٹل کا گرم کمرا اور بستر زیادہ پرکشش لگ رہا ہے۔ اس دوران سینٹ لوئیس زو ذہن میں تھا۔

میں نے دبے لفظوں میں کہا کہ کیوں نا چڑیا گھر چلا جائے لیکن شاپنگ کی زور و شور سے ہونے والی بحث میں میری آواز دب گئی چانچہ میں کان لپیٹ کر کھانے میں مصروف ہوگئی۔ تاحال میرا ارادہ اکیلے کہیں نہ جانے اور ہوٹل واپس جا کر سونے کا ہی تھا۔

ہوٹل کے کمرے میں پہنچ کر سردی سے جما ہوا دماغ کچھ بحال ہوا تو چڑیا گھر کی ویب سائٹ اور تصاویر کھول کر دیکھیں۔ تصاویر دیکھ کر یاد آگیا کہ مجھے پینگوئن دیکھنا تھا۔ استقبالیہ پر کال کر کے راستے کی معلومات لینی چاہیں تو ریسیپشن پر بیٹھی خاتون نے جاں فزا خبر سنائی کہ ہوٹل کی مفت شٹل سروس مجھے چڑیا گھر تک چھوڑ اور واپس لے سکتی ہے۔

بس پھر کیا تھا، میں نے سونے کا ارادہ واپس کراچی جانے تک مؤخر کیا، موٹی جیکٹ چڑھائی، اپنے پاس موجود تمام ڈالرز بیگ میں ڈالے کہ کہیں پینگوئن پر لگے مہنگے ٹکٹ کی وجہ سے مجھے نامراد نہ لوٹنا پڑے اور نیچے آگئی۔

نیک طنیت شٹل ڈرائیور نے چڑیا گھر کے مرکزی دروازے پر چھوڑا اور مسکراتے ہوئے ’انجوائے یور وزٹ‘ کہہ کر ہاتھ ہلا کر واپس چلا گیا۔

چڑیا گھر کے استقبالیہ پر مجھے زو کا نقشہ تھمایا گیا اور بتایا گیا کہ زو 4 بجے بند ہوجائے گا یعنی میرے پاس صرف 1 گھنٹہ تھا۔ انٹری اور پورے چڑیا گھر کی سیر بالکل مفت تھی۔ مجھے کراچی کے تفریحی مقامات یاد آئے جہاں داخلے کی فیس الگ لی جاتی ہے جبکہ اندر موجود تفریحی سہولیات پر الگ ٹکٹ ہیں۔ تقشہ تھام کر چڑیا گھر کے اندر چلنا شروع کیا۔

سینٹ لوئیس زو جس کا مکمل نام سینٹ لوئیس زولوجیکل پارک ہے سنہ 1910 میں قائم کیا گیا۔ اس کے پہلے ڈائریکٹر جارج ولہرل تھے جو کہا کرتے تھے، ایک زندہ دل شہر کو 2 چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک اچھا چڑیا گھر، اور ایک اچھی بیس بال ٹیم۔

سینٹ لوئیس کے چڑیا گھر میں موجود کئی جانوروں کو عالمی شہرت حاصل ہے۔ جیسے فل نامی گوریلا کو لائف میگزین کے سرورق پر جگہ ملی۔ چڑیا گھر کا پہلا ہاتھی سنہ 1992 میں پیدا ہوا جس کے والدین ایشیائی تھے اور اس کا نام راجہ رکھا گیا۔

اس چڑیا گھر کا شمار اینیمل مینجمنٹ، ریسرچ اور تحفظ جنگلی حیات کے اقدامات کے حوالے سے دنیا کے اہم اداروں میں کیا جاتا ہے اور یہاں موجود جانوروں، پرندوں اور حشرات الارض کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو دنیا کے مختلف خطوں سے لائی اور نہایت حفاظت و خیال سے رکھی گئی ہیں۔

میں نے جب اس چڑیا گھر کی سیر کی تب سخت سردی تھی اور زو کے بند ہونے کا ٹائم قریب تھا لہٰذا وہاں لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ میرا اصل مقصد پینگوئن دیکھنا تھا چنانچہ میں راستے میں مختلف جانوروں کو سرسری نظر سے دیکھتی ہوئی گزری۔

تمام جانداروں کے انکلوژز بڑے اور کھلے ہوئے تھے اور شیشے کی دیواروں سے ان کی حد بندی کی گئی تھی۔ گو کہ یہ کھلے انکلوژر بھی ان جانوروں اور پرندوں کے لیے ناکافی تھے کہ وہ جنگلوں اور فضاؤں کی وسعتوں کے لیے پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کی حالت پاکستانی چڑیا گھروں سے خاصی مختلف اور بہتر تھی۔

مختلف راستوں سے گزر کر میں اس انکلوژر میں پہنچی جہاں پینگوئن موجود تھے۔ یہاں ان کی مختلف اقسام موجود تھیں، ان کے لیے دو تالاب بھی بنائے گئے تھے جس کے سرد پانی میں ڈبکیاں لگاتے پینگوئن نہال تھے۔

دنیا بھر میں پینگوئن کی 18 اقسام پائی جاتی ہیں جو زمین کے سرد ترین علاقوں میں رہتی ہیں۔ سنہ 1959 میں 12 ممالک نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت برفانی خطوں میں موجود جانداروں کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں نقصان پہنچانے یا کسی بھی طرح ان کے قریب جانے کو غیر قانونی قرار دیا جاچکا ہے۔

معاہدے کے تحت پینگوئن کے شکار یا اس کے انڈے جمع کرنے پر بھی پابندی عائد ہے، یہی وجہ ہے کہ زمین کا نایاب ترین جانور ہونے کے باوجود اسے معدومی کا کوئی خطرہ نہیں اور اس کی نسل مستحکم ہے۔

اچھلتے کودتے پینگوئنز کی تصاویر اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنا کر میں واپس ہوئی تو نقشے میں ایک جگہ جانے پہچانے زرافے دکھائی دیے۔ اپنے صحافتی سفر میں وائلڈ لائف کو کور کرتے کرتے ان جانوروں سے بھی واقفیت ہوگئی تھی جن کا پاکستان میں نام و نشان بھی نہ تھا اور سوچتی تھی کہ کیا کبھی ان جانوروں کو دیکھنے، انہیں چھونے اور پیار کرنے کا موقع ملے گا؟ اب زرافے کا پتہ چلا تو دل دھڑک اٹھا کہ یہاں تک آ ہی گئے تو یہ خواہش بھی پوری کرلی جائے۔

گھڑی دیکھی تو وقت کم تھا اور راستہ طویل۔ لیکن سوچا کہ زرافہ نہ دیکھنے کے پچھتاوے سے بہتر ہے ایک رات کے لیے چڑیا گھر میں بند ہوجانا۔ سو باہر نکل کر زرافے کے انکلوژر کی جانب چلنے لگی۔

اونچے نیچے بل کھاتے راستے، دونوں طرف سرخ اور زرد پتوں سے لدے درخت، زمین پر گرے زرد پتے اور انسان کا نام و نشان نہیں۔ یہ وہ راستے تھے جن پر کھو جانے کی آرزو کی جاتی ہے۔ صرف راستے ہی نہیں جانوروں کے لیے مخصوص کردہ احاطے بھی خالی تھے جس کی وجہ بعد میں پتہ چلی۔

میں چونکہ راستوں اور سمتوں کے معاملے میں خاصی بھلکڑ واقع ہوئی ہوں سو رک رک کر ایک ایک موڑ کی نشانی ذہن نشین کرتی ہوئی آگے بڑھتی گئی۔ جب دائیں یا بائیں مڑنا ہوتا تو پلٹ کر دیکھتی اور سوچتی کہ واپسی کے وقت دایاں بائیں میں تبدیل ہوچکا ہوگا، راستہ بتانے والا آس پاس کوئی نہیں ہے لہٰذا خود ہی یاد رکھ کر واپس آنا ہوگا۔

خاصا فاصلہ طے کرنے کے بعد جب اس جگہ پہنچی جہاں زرافوں کا سائن بورڈ لگا تھا تو لکڑی کی باڑھ سے ارد گرد سبز قطعہ، جہاں زرافوں کو ہونا چاہیئے تھا، خالی تھا۔ آس پاس کچھ اجنبی قسم کے بندر اپنے محدود کردہ حصے میں اچھلتے دکھائی دیے لیکن زرافہ غائب تھا۔ میں مایوس ہو کر پلٹنے کو تھی کہ اندر سبز قطعے کے ساتھ موجود بند جگہ سے ایک شخص باہر آتا دکھائی دیا۔

میں نے اس سے زرافوں کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ ویسے تو چڑیا گھر کے بند ہونے کا وقت 4 بجے ہے جس کے بعد جانوروں کو کھلے حصے سے اندر بند جگہ لے جایا جاتا ہے، لیکن آج چونکہ سردی بہت زیادہ ہے لہٰذا مقررہ وقت سے پہلے ہی جانوروں کو اندر بند کیا جاچکا ہے۔ میرے چہرے پر مایوسی دیکھ کر اس نے کہا کہ چونکہ میں ٹورسٹ لگتی ہوں تو وہ خصوصی طور پر مجھے اندر لے جا کر زرافے دکھا سکتا ہے۔

میں اس کے پیچھے ایک تاریک کمرے کی طرف چل پڑی۔ اندر ہیٹر کے درجہ حرارت سے گرم ایک طویل کمرہ تھا جس کے دونوں طرف  پنجرے تھے جن کی سلاخیں چھت تک جارہی تھیں۔ ان پنجروں میں زرافے، شتر مرغ، ایک قسم کا ہرن اور دیگر کئی جانور تھے۔

بقیہ جانور تو آرام سے ان پنجروں میں بند تھے لیکن زرافوں کی طویل گردنیں چھت سے ٹکرا رہی تھی۔ وہ بیچارے اپنی گردن جھکاتے تو وہ سلاخوں سے لگتیں۔ غرض وہ نہایت غیر آرام دہ حالت میں پنجرے میں موجود تھے اور ان کو دیکھ کر میری خوشی ماند پڑ گئی۔ قریب سے دیکھنے پر ان کے چہرے کا نرم فر نہایت بھلا محسوس ہوا۔

زرافہ جسے افریقی ممالیہ کہا جاتا ہے، زمین پر پایا جانے والا طویل ترین جانور ہے۔ 21 جون کو جب زمین کے ایک حصے پر سال کا طویل ترین دن، اور دوسرے حصے پر سال کی طویل ترین رات ہوتی ہے، اس طویل القامت جانور کا دن بھی منایا جاتا ہے۔

زرافے کو عالمی اداروں نے معدومی کے خطرے سے دو چار جانداروں میں سے ایک قرار دے رکھا ہے جس کی وجہ افریقہ میں ہونے والی خانہ جنگیاں اور ان کے باعث جنگلات کا اجڑ جانا شامل ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں موجود زرافوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی کم ہے اور ماہرین تحفظ جنگلی حیات اس کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں۔

سینٹ لوئیس زو میں انکلوژر کے نگران نے زرافوں کے ساتھ خوشدلی سے میری تصاویر کھینچیں۔ تمام جانوروں کو دیکھتے ہوئے میں باہر نکل آئی اور اس بھلے آدمی کا بے حد شکریہ ادا کیا۔ واپسی میں درختوں سے گھرے وہی سنسان راستے اور سناٹا تھا۔ ہیلووین کی مناسبت سے زو میں جگہ جگہ جنوں بھوتوں کی ڈیکوریشن کی گئی تھی اور چمکتا ہوا دن اب جب آہستہ آہستہ اندھیرے میں ڈھل رہا تھا تو یہ ڈیکوریشنز خوفناک ثابت ہوسکتی تھیں۔

اس کے بعد میں تقریباً بھاگتی ہوئی واپس مرکزی دروازے تک پہنچی۔ ڈرائیور میرے دوستوں کو وال مارٹ سے لے کر راستے میں تھا۔ سووینیئر شاپ سے میں نے یادگار کے طور پر چند منی ایچر جانور خریدے جنہیں آج تک کامیابی سے گھر کے بچوں سے چھپا رکھا ہے۔

تھوڑی دیر بعد واپسی کے لیے وین موجود تھی۔ میں وین میں داخل ہوئی تو خفا دوستوں نے پوچھا، اکیلے ہی پروگرام بنا لیا؟ میں نے جواب دیا کہ پوچھا تو تھا، تم سب نے دلچسپی ہی نہ دکھائی۔ ہوٹل واپس پہنچ کر ہم سب نے ڈرائیور کا ٹپ جار ایک اور دو ڈالرز کے نوٹوں اور سکوں سے بھردیا اور اس کا شکریہ ادا کر کے گاڑی سے اتر گئے۔ سیاہ فام ڈرائیور کی آنکھیں بھرا ہوا ٹپ جار دیکھ کر چمک رہی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں