وژن 2030: سعودی ولی عہد ایک قدم اور آگے

ریاض: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وژن 2030 کے تحت مملکت میں ‘نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹک اسٹریٹیجی’ کا آغاز کر دیا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس پروگرام کا مقصد مملکت کو لاجسٹک کا مرکز بنانا ہے جو 3 براعظموں کو جوڑ رہا ہے، نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹک اسٹریٹیجی سے انقلابی تبدیلیاں آئیں گی، اس اقدام کے تحت سعودی عرب میں وزارت ٹرانسپورٹ کا نام تبدیل کر کے وزارت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز بھی رکھا جاسکتا ہے۔

منصوبے کے حوالے سے محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی سے ریاست میں نقل و حمل اور رسد کے شعبے میں انسانی اور تکنیکی صلاحیتوں کو تقویت ملے گی، عالمی معیشت سے جڑنے میں بھی معاونت ملے گی، یہ سعودی عرب کو تین براعظموں کے وسط میں اپنے جغرافیائی پوزیشن میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل بنائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے ذریعے معیشت کے پھیلاؤ، خدمات کی جدید سروسز کی تشکیل، پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے مسابقتی کاروباری ماڈل کا اطلاق اور لاجسٹک کے شعبے میں استحکام آئے گا۔ نیشنل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹک اسٹریٹیجی مملکت میں متعدد پلیٹ فارم اور لاجسٹ زونز کا اجرا کرے گی، جدید آپریٹنگ ماڈلز، سسٹمز کا نفاذ، حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو بہتر بنائے گی، اس پراجیکٹ کے مختلف اہداف ہیں۔

سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ مملکت کو ایک لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، ملک میں معیار زندگی کو بہتر کرنا، مالی استحکام میں اضافہ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا بھی مشن کا حصہ ہے، اس منصوبے کے کامیاب نفاذ سے دیگر شعبوں جیسے حج، عمرہ اور سیاحتی شعبوں کو بھی آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔

شہزادے نے کہا کہ اس نئی اسٹریٹیجی کے تحت ایئر کارگو شعبے کی گنجائش کو دوگنا کر کے کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے، بین الاقوامی سطح پر شپنگ لائنز کے ساتھ روابط کو وسیع کریں گے، ریل اور روڈ نیٹ ورکس کے انضمام کو بہتر بنانا ہے جو ٹرانسپورٹ سے جڑے ماحولیاتی نظام بہتر بنائے گا۔

محمد بن سلمان کا مزید کہنا تھا کہ نئی اسٹریٹیجی سے ریل نیٹ ورک کی کل لمبائی میں تقریباً آٹھ ہزار 80 کلومیٹر اضافہ ہوگا۔ اس میں ’زمینی پل‘ کا منصوبہ بھی شامل ہے جو 13 سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا، اس طرح خلیجی ممالک سمیت دنیا سے رابطے مزید وسیع ہوں گے، ہمیں شاہ سلمان کی سربراہی میں حاصل کردہ کامیابیوں پر فخر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں