علی گنڈا پور کے بیان پر سینیٹ میں اپوزیشن کا شور شرابہ اور احتجاج

سینیٹ میں اپوزیشن کی جانب سے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی امین گنڈا پور کے بیان کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔

سینیٹر رضا ربانی نے ایوان میں ’بدکلامی کی سرکار، غنڈا گردی کی سرکار نہیں چلے گی‘ کے نعرے لگوا دیئے، بعد میں معذرت بھی کر لی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پوری مسلم امہ کو ایک پلیٹ فام پر جمع کیا اور یہ انہیں غدار کہہ رہے ہیں، ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے والی سیاست تباہی کی طرف لے جائے گی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ کل اس بدزبان حکومت کے بدزبان وزیر نے بھٹو صاحب کو غدار کہا، یہ تصادم کی نئی راہ کھول رہے ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ بھٹو ایٹمی پروگرام لائے، اس لیے غدار ہے؟ زبان درازی کی حد ہوتی ہے، یہ کون ہوتے ہیں غداری کے سرٹیفکیٹ دینے والے۔

مسلم لیگ ن کے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومتی وزیر نے بھٹو، نوازشریف اور مریم نواز کے لیے جو زبان استعمال کی اس پر انہیں شرم آنی چاہیے۔

سینیٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابا اور احتجاج کیا۔

شہزاد وسیم نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی اعلیٰ قیادت نے کشمیر کے انتخابی جلسوں میں نامناسب زبان استعمال کی، اپوزیشن ارکان نے اپنی روش نہ بدلی تو حکومتی سینیٹرز کو روکنا مشکل ہو جائے گا، اپوزیشن کی قیادت بھی اپنے نامناسب بیانات پر معافی مانگے۔

ان کا کہنا تھا میں عمران خان کا سپاہی ہوں، شور شرابے اور احتجاج سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن اراکین کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے، آپ کو موقع دیا جائے گا آپ اپنی باری پر جواب دیجیے گا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں