گرد آلود موسم صحت کے لیے کتنا خطرناک؟ کویتی محققین نے خبردار کر دیا

کویت سٹی: کویتی محققین نے خبردار کیا ہے کہ گرد آلود موسم انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔

تفصیلات کے مطابق دو کویتی محققین نے اپنے مطالعہ جات کے بعد خبردار کیا ہے کہ گرد آلود موسم سمندری حیات کے لیے فوائد رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کے لیے یہ خطرناک بھی ہے۔

عام طور سے لوگ گرد اور دھول کے فوائد بیان کرتے نظر آتے ہیں، جیسا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بچوں میں قوت مدافعت کو مستحکم کرتا ہے، اس کے علاوہ گرد آلود موسم میں سمندر کو قدرتی طور پر اہم عناصر فراہم ہو جاتے ہیں، یہ بارش میں بھی مدد کرتا ہے اور زہریلی گیسوں کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

تاہم کویتی محققین کہتے ہیں کہ گرد آلود موسم کے کتنے ہی فوائد بیان کر دیے جائیں، اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس موسم کے انسانی صحت پر کافی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے دو کویتی محققین نے اپنے مطالعے کی روشنی میں دھول کے بہت سے نقصانات سے خبردار کیا ہے، کویت یونیورسٹی میں ماہر حیاتیات کے پروفیسر ڈاکٹر سمایا الحوثی نے بتایا کہ دھول کے نقصان اس کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں، یہ سانس کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، جیسے دمہ کی بیماری، جلد کی الرجی اور آنکھوں پر یہ منفی اثر ڈالتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب دھول گھروں میں داخل ہو کر قالین اور فرنیچر پر بیٹھ جاتی ہے، اور کھجور کے درختوں پر یہ جمع ہو جاتی ہے تو Dust Mites کی افزائش ہوتی ہے، جو ایک کیڑا ہے جو خاک پر رہتا ہے اور بیماریوں کا سبب بنتا ہے اور انسانوں اور فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ماحولیاتی امور کے محقق ڈاکٹر محمد السائغ نے کہا کہ مٹی کے بہت سے نقصانات ہیں اور اس کا فائدہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہ سمندری حیات کے لیے مفید ہے۔ انھوں نے کہا کہ پانچ سال قبل چین میں کی جانے والی سائنسی تحقیق میں ثابت ہوا تھا کہ دھول کے طوفانوں کے بہت سارے نقصانات کے باوجود دھول کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ سمندری حیاتیات پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا دھول کے طوفان میں موجود فائدہ مند غذائی اجزا جیسے نائٹروجن، فاسفورس اور آئرن ساحلی مرجان میں بائیو کیمیکل سائیکل کو مثبت طور پر متاثر کرتے ہیں، ان سے سمندری زندگی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی ماحولیاتی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں